حدیث نمبر: 11015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا ، ثُمَّ قَالَ : " خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ ، وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ ، لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، انتظار کرتے کرتے رات کا ایک تہائی حصہ بیت گیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا اپنی اپنی جگہ پر ہی بیٹھو، لوگ اپنے اپنے بستروں میں جاچکے، لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو، تم برابر نماز میں ہی شمار ہوئے، اگر ضعفاء کی کمزوری، بیماروں کی بیماری اور ضرورت مندوں کی ضرورت کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں یہ نماز رات کے ایک حصہ تک مؤخر کردیتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح