حدیث نمبر: 11009
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبي سعيد ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ ، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے، چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب وہ خوش ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ سے بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151 .