حدیث نمبر: 11004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنَّ وَاللَّهِ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ ، فَمَا يَقُولُ ذَاكَ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا " يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ ، يَعْنِي نَارًا ، قَالَ : قَالَ : عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ ؟ ، قَالَ : " فَمَا أَصْنَعُ ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے فلاں فلاں دو آدمیوں کو خوب تعریف کرتے ہوئے اور یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے انہیں دو دینار عطاء فرمائے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن بخدا ! فلاں آدمی ایسا نہیں ہے، میں نے اسے دس سے لے کر سو تک دینار دئیے ہیں، وہ کیا کہتا ہے ؟ یاد رکھو ! تم میں سے جو آدمی میرے پاس سے اپنا سوال پورا کرکے نکلتا ہے وہ اپنی بغل میں آگ لے کر نکلتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ انہیں دیتے ہی کیوں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیا کروں ؟ وہ اس کے علاوہ مانتے ہی نہیں اور اللہ میرے لئے بخل کو پسند نہیں کرتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 11004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح .