حدیث نمبر: 10958
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قََالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ , يَقُولُ , قََالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ لَا أَحْسِبُهُ إِلَّا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ , وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ , وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ , وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل میں مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ بخدا ! مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051