حدیث نمبر: 1091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 ، وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء و نفاذ وصیت سے پہلے ہو گی، جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے، اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ فائدہ: ماں شریک بھائی کو اخیافی، اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف الحارث الأعور