حدیث نمبر: 10737
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ , أَنَّ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَرْسَلَ مَعَهُ إِلَى مَرْوَانَ بِكِسْوَةٍ , فَقَال مَرْوَانُ : انْظُرُوا مَنْ تَرَوْنَ بِالْبَابِ ؟ قََالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ , فَأَذِنَ لَهُ , فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ وُلُّوا هَذَا الْأَمْرَ أَنَّهُمْ خَرُّوا مِنَ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا شَيْئًا " . قََالَ : زِدْنَا يَا قََالَ : زِدْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَجْرِي هَلَاكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال

یزید بن شریک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ضحاک بن قیس نے ان کے ہاتھ کچھ کپڑے مروان کو بھجوائے مروان نے کہا دیکھو دروازے پر کون ہے لوگوں نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی ، اس نے مزید فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، يزيد لم نقف له على ترجمة