حدیث نمبر: 10455
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ : بَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ ، فَجَعَلَ يَمِيسُ فِيهَا حَتَّى قَامَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ عِنْدَكَ فِي حُلَّتِي هَذِهِ مِنْ فُتْيَا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ : حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ ، فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، اذْهَبْ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
مولانا ظفر اقبال

حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک آدمی ایک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے آیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ ! کیا میرے اس جوڑے کے متعلق آپ کے پاس کوئی فتویٰ ہے ؟ انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا مجھے صادق ومصدوق میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثنا میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5789، م: 2088، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة