حدیث نمبر: 10408
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : أَقُولُ : " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں یہ بتائیے کہ آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا فرمادے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف فرمادے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہوجاتا ہے اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے برف پانی اور اولوں سے دھو کر صاف فرمادے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598