حدیث نمبر: 10137
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَجَّاجٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , الْمَعْنَى ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : إِذَا مُتُّ فَلَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا ، وَلَا تَتْبَعُونِي بِنَارٍ ، وَأَسْرِعُوا بِي إِلَى رَبِّي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُضِعَ الْعَبْدُ أَوْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ ، قَالَ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السَّوْءُ ، قَالَ وَيْلَكُمْ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال

عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کہاں لئے جاتے ہو ؟

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944