حدیث نمبر: 10028
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَمْرٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال

گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337