حدیث نمبر: 10007
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قََالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال

گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی آدمی کو نامناسب حالت میں دیکھوں تو کیا اسے چھوڑ کر پہلے چار گواہ تلاش کرکے لاؤں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! (بعد میں یہ حکم لعان کے ساتھ تبدیل ہو گیا جس کی تفصیل سورت نور کے پہلے رکوع میں کی گئی ہے)

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1498