کتب حدیثمسند عبدالرحمن بن عوفابوابباب: عروۃ بن زبیر کی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِكَ الْحَجَرَ؟ قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكَتُ قَالَ: أَصَبْتَ.
حافظ حامد محمود
جناب عروہ بن زبیر سے روایت ہے، وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے کبھی چھو لیا اور کبھی چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالرحمن بن عوف / حدیث: 30
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: «كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِكَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ؟» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكَتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «أَصَبْتَ».
حافظ حامد محمود
عروہ بن زبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اسے کبھی چھوا اور کبھی چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالرحمن بن عوف / حدیث: 31
تخریج حدیث «مستدرك الحاكم : 3/346 : 5337 ، معجم طبراني الكبير : 257 : 127/1 ، مصنف عبدالرزاق 8901 : 34/5»
حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: كَيْفَ صَنَعْتَ فِي الرُّكْنِ؟ قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكَتُ، قَالَ: أَصَبْتَ.
حافظ حامد محمود
عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے حجر اسود کے چھونے کے بارے میں کیسے کیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے کبھی اسے چھو لیا اور کبھی چھوڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالرحمن بن عوف / حدیث: 32
تخریج حدیث «تقدم تخريجه»