حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا، مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ: كَانَ كَعْبُ الْأَحْبَارُ يَقُصُّ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: «لَا يَقُصُّ إِلَّا مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ» ، قَالَ: فَأَتَى كَعْبٌ، فَقِيلَ لَهُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا فَتَرَكَ الْقَصَصَ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاوِيَةَ أَمَرَهُ بِالْقَصَصِ، فَاسْتَحَلَّ ذَاكَ بِذَاكَ.
حافظ حامد محمود

کعب الاحبار قصے بیان کرتے تھے، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قصے یا تو جسے حکم دیا جائے وہ بیان کرتا ہے، یا جو دکھلاوا کرتا ہے۔“ انہوں نے کہا: (یعنی راوی نے) کہا: کعب آئے اور انہیں کہا گیا، تیری ماں تجھے گم پائے یہ تو عبدالرحمٰن بن عوف ایسا ایسا کہہ رہے تھے، اس کے بعد انہوں نے قصے بیان کرنے کا عمل چھوڑ دیا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا تو بایں وجہ انہوں نے (قصوں کو بیان کرنا) حلال سمجھا۔

حوالہ حدیث مسند عبدالرحمن بن عوف / حدیث: 49
تخریج حدیث «معجم طبراني كبير : 76/18 ، رقم : 140 ، سنن ابوداؤد ، كتاب العلم ، باب فى القصص ، رقم : 3665 ، سنن ابن ماجه ، كتاب الادب ، باب القصص ، رقم : 3753 ، مسند احمد : 178/2 ، قال الشيخ الالباني : صحيح»