مسند عبدالرحمن بن عوف
— متفرق
المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه باب: مشایخ کی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: يَا أُمَّه، إِنِّي يُهْلِكُنِي كَثْرَةُ مَالِي أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا، قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، تَصَدَّقْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ» ، قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيَ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَجَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: بِاللَّهِ مِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَتْ: لَا وَلَنْ أَقُولَ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ.سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا: اے اماں جان! میری کثرت مال نے مجھے ہلاک کر دیا ہے۔ میرے پاس اہل قریش میں سب سے زیادہ مال ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بیٹے! صدقہ کر دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میرے صحابہ میں سے ایسا بھی ہو گا جو میرے ساتھ ملاقات کر کے جدا ہو گا تو پھر وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا۔“ (راوی نے) کہا: تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نکلے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان کو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا وہ بتایا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! وہ تو میں ہوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! اور میں تمہارے بعد ہرگز کسی کو یہ حدیث نہیں بتاؤں گی۔