مسند عبدالرحمن بن عوف
— متفرق
المشايخ ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه باب: مشایخ کی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِنِّي وَاللَّهِ مَا فَرَرْتُ عَنْ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَومَ حُنَيْنٍ، وَلَا تَخَلَّفْتُ عَنْ بَدْرٍ، وَلَا خَالَفْتُ سُنَّةَ عُمَرَ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُثْمَانُ أَمَّا قَوْلُكَ فَرَرْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَدْ صَدَقْتَ، فَقَدْ عَفَا عَنَى، وَأَمَّا سُنَّةَ عُمَرَ فَوَاللَّهِ مَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا أَنْتَ.شقیق نے بیان کیا، کہا: کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان کوئی رنجش ہو گئی، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا: بلاشبہ اللہ کی قسم! میں حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ کر بھاگا نہیں تھا، اور نہ بدر سے پیچھے رہا اور نہ ہی امیر عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کی مخالفت کی۔ (راوی نے) کہا: تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ کا یہ کہنا کہ میں حنین کے دن بھاگ گیا تھا تو آپ نے یقیناً سچ کہا، مگر (اللہ تعالیٰ نے) مجھے معاف کر دیا تھا اور جو امیر عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کا معاملہ ہے تو اللہ کی قسم! نہ آپ اس کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ میں۔