کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: انسان کو اپنا پردہ کھولنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2990
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ وَعَبْدُ بْنُ حميدٍ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ، ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ ، فَيَقُولُ يَا فُلَانُ : قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ ، فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : وَإِنَّ مِنَ الْهِجَارِ .
سالم نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”میری تمام امت کو (گناہوں پر) معافی ملے گی، سوائے ان لوگوں کے جو (اپنے گناہوں کا) اعلان کرنے والے ہیں۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے، پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہ رکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے: اے فلاں! میں نے پچھلی رات ایسا ایسا کام کیا، حالانکہ اس نے رات گزاردی اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود اتار دیتا ہے۔“ زہیر نے (اجہار یعنی اعلان کے بجائے) وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ (یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے) کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2990
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»