حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ : " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .
عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا: ”ان عذاب دیے گئے لوگوں کے ہاں (ان کے گھروں میں) داخل نہ ہو، مگر اس صورت میں کہ تم (اللہ کے غضب کے ڈر سے) رو رہے ہو۔ اگر تم رو نہیں رہے ہو تو ان کے ہاں داخل نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔“
حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ ، قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ، ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا " .
سالم بن عبداللہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر (قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گاہوں میں داخل نہ ہو، مگر اس طرح کہ تم رو رہے ہو۔ ڈر ہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئے جس نے انھیں آ لیا تھا۔“ پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا، رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ ، فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا ، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا ، وَيَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ " ،
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرنے والے لوگ سرزمین ثمود حجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا (بھی) گوندھ لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیاکہ انھوں نے جو پانی بھراہے وہ بہادیں اورگندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے کہا: کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 2981
وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئَارِهَا وَاعْتَجَنُوا بِهِ .
انس بن عیاض نے کہا: مجھے عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے (الفاظ کی تبدیلی سے) کہا: فاستقوا من بئرہا واعتجنوا بہ (معنی میں کوئی فرق نہیں۔)