حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، وقَالَ ابْنُ عَبَّادٍ " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا ، مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .
محمد بن عباد اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مروان فزاری نے یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جبکہ ابن عباد نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے گھروالوں کو تین لگاتار گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھلائی تھی یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ مِرَارًا ، يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .
یحییٰ بن سعید نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے حازم نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کئی بار دیکھا، وہ انگلی سے اشارہ کرتے تھے، کہتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھروالوں نے کبھی لگاتار تین دن گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی تھی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : " أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ ؟ ، لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ " ، وَقُتَيْبَةُ لَمْ يَذْكُرْ بِهِ ،
قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابواحوص نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کیا تم لوگوں کو اپنی مرضی کا کھانا اور پینا میسر نہیں؟ میں نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ کے پاس روٹی کھجور بھی اتنی نہیں ہوتی تھی جس سے آپ اپنا پیٹ بھر لیں۔ اور قتیبہ نے (جس سے) کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ .
زہیر اور اسرائیل دونوں نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور زہیر کی حدیث میں مزید ہے: اور تم کھجوروں اور مکھن کی کئی قسموں کے بغیر راضی نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 2978
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ ، قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ " .
شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگوں نے دنیا میں سے کیا کچھ حاصل کر لیا ہے۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ پورا دن بھوک لوٹتے تھے اور آپ کو سوکھی ہوئی اتنی سخت کھجور بھی میسر نہ ہوتی تہی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے۔
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ " أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ؟ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : " أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ ، قَالَ : فَإِنَّ لِي خَادِمًا ، قَالَ : فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ " .
ابوہانی نے ابوعبدالرحمٰن کو کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا: کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمھاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: کیا تمھارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا: پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔
حدیث نمبر: 2979
(حديث موقوف) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالُوا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ : إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ، لَا نَفَقَةٍ ، وَلَا دَابَّةٍ ، وَلَا مَتَاعٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا ، فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا " ، قَالُوا : فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا .
ابوعبدالرحمٰن نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین شخص آئے جبکہ میں ان کے ہاں تھا، وہ کہنے لگے: ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، نہ خرچ، نہ سواری اور نہ سامان (وہ لوگ واقعتاً فقیر تھے)۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو دوبارہ ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ جو تمھارے لیے مہیا کرے گا ہم تمھیں دے دیں گے۔ اگر چاہو تو ہم تمھارا ذکر بااختیار حاکم کے پاس کر دیں گے (وہ تمھاری ضرورتوں کا خیال رکھے گا)۔ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک ہجرت کر کے آنے والے فقیر قیامت کے روز اغنیاء کی نسبت چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔“ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہم صبر کریں گے، کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔