حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، يُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے (اس کا ٹھکانا اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے) کہا جاتا ہے: تمھارا ٹھکانا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس (ٹھکانے) تک لے جائے۔“
حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ : هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو جنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہو تو دوزخ (اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے)“ کہا: پھر کہا جاتا ہے: یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھا کر لے جایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2867
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ ، قَالَ : كَذَا كَانَ ، يَقُولُ : الْجُرَيْرِيُّ ، فَقَالَ : " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا قَالَ : فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ ؟ ، قَالَ : مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ ؟ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " ، قَالُوا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، فَقَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ، قَالُوا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ " ، قَالُوا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " ، قَالُوا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی،بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی، انھوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے،ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟"ایک آدمی نے کہا: میں،آپ نے فرمایا:"یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا:شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں)کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے۔"پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا:"آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "(تمام) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔"سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر (کی آوازیں) سنوائے۔“
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَسَمِعَ صَوْتًا ، فَقَالَ : " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا " .
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا: ”یہود ہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔“
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ ، قَالَ : يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ ، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ ، قَالَ : فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ، فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ .
شیبان بن عبدالرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ (بندہ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تم اس آدمی کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتے تھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک مومن ہے تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ فرمایا: ”تو اس سے کہا جائے گا: تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے۔“ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا۔“ قتادہ نے کہا: اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کر دی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں تروتازہ نعمتیں بھر دی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2870
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا " ،
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ .
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں۔“ اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا۔
حدیث نمبر: 2871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27 ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ، فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 " .
سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول (کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت) کے ذریعے سے (حق پر) ثابت قدم رکھتا ہے۔“ فرمایا: ”یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس (مرنے والے) سے کہا جاتا ہے: تمھارا رب کون ہے؟ وہ (مومن) کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی قول عزوجل ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) (سے مراد) ہے۔“
حدیث نمبر: 2871
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ " .
خیثمہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے بارے میں) روایت کی: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) ”اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے۔“ کہا: یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 2872
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا ، قَالَ حَمَّادٌ : فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا ، وَذَكَرَ الْمِسْكَ ، قَالَ : وَيَقُولُ : أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يَقُولُ : انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ ، قَالَ : وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ ، قَالَ حَمَّادٌ ، وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا ، وَذَكَرَ لَعْنًا ، وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ : رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ ، قَالَ : فَيُقَالُ : انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا .
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں بدیل نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ”جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس (روح) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں۔“ حماد نے کہا: انہوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان والے کہتے ہیں: یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے (اے روح مومن!) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تو نے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے: اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے (عالی شان ٹھکانے پر) لے جاؤ۔“ فرمایا: ”اور کافر جب اس کی روح نکلتی ہے۔“ حماد نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور (اس پر کی جانے والی) لعنتوں کا ذکر کیا۔ ”اور آسمان والے کہتے ہیں: گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے“ فرمایا: ”تو کہا جاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے (برے ٹھکانے) پر لے جاؤ۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی۔
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : كُنْتُ مَعَ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ ، فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ أَمَا تَرَاهُ ، فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ ، قَالَ : يَقُولُ عُمَرُ : سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ ، يَقُولُ : هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا ، قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا " .
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو ہم نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں تیز نظر انسان تھا، میں نے چاند کو دیکھ لیا۔
حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " ، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا ؟ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا " ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ " ،
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکار کر فرمایا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے وہ وعدہ سچا نہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تو عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے جبکہ وہ تو لاشیں بن چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔“ پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔
حدیث نمبر: 2875
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا ، وَفِي حَدِيثِ رَوْحٍ : بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ ، فَأُلْقُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ .
عبدالاعلی اور روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے (سن کر) بیان کیا، انہوں نے کہا: جب بدر کا دن تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر فتح حاصل فرمائی تو آپ نے قریش کے بڑے سرداروں میں سے بیس افراد کے بارے میں حکم دیا۔ اور روح (بن عبادہ) کی حدیث میں ہے کہ چوبیس افراد کے بارے میں (حکم دیا) تو انھیں بدر کے پتھروں سے بنے ہوئے کنوؤں میں سے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، پھر انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت کی روایت کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی۔