حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ ، وَابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ : " أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ ، فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ، وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ ، إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا ، فَقُلْتُ : رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً ، قَالَ : اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ ، وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ ، قَالَ : وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ : مُقْسِطٌ ، مُتَصَدِّقٌ ، مُوَفَّقٌ ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ ، قَالَ : وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ : الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ ، تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ ، وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو غَسَّانَ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ ،
حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا:"سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے)ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (اس کی قسمت میں لکھا) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو(حق کے لیے) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انھوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان (بندوں)کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی۔اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے(کچھ)بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے)فرمایا:میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو(کر مٹا) نہیں سکتا،آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو(ان کے معبودوں اور ان آباء واجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انھیں)جلاؤں میں نے کہا: میرے رب وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے۔تو(اللہ نے)فرمایا:آپ انھیں باہر نکالیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گےاور (اللہ کی راہ میں)خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکربھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔(پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا:اہل جنت تین(طرح کے لوگ)ہیں ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار(برائیوں سے بچ کر چلنے والا)جو عیال دارہے،(پھر بھی) سوال سے بچتاہے۔فرمایا:"اور اہل جہنم پانچ (طرح کے لوگ)ہیں وہ کمزور جس کے پاس (برائی سے) روکنے والی (عقل عفت،حیا،غیرت)کوئی چیز نہیں جوتم میں سے (برے کاموں میں دوسروں کے)پیچھے لگنے والے لوگ ہیں (حتیٰ کہ)گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے(ان کی بھی پروا نہیں کرتے) اور ایسا خائن جس کا کو ئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو۔ (دوسروں کی نظروں سے) اوجھل ہوتا ہےتووہ اس میں (ضرور)خیانت کرتاہے۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمھارے اہل وعیال اور مال کے بارے میں تمھیں دھوکادیتا ہے۔"اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔"اور بدطینت بد خلق۔"اور ابو غسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا:"آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جا ئے گا۔"
حدیث نمبر: 2865
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ ، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ ،
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں "جو مال میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے حلال ہے،" کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : قَالَ يَحْيَى : قَالَ شُعْبَةُ : عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ ،
ہمیں یحییٰ بن سعید نے دستوائی (کپڑے بیچنے) والے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف سے اور انہوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا: یحییٰ نے کہا: شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: انہوں (قتادہ) نے کہا: میں نے اس حدیث میں (جو بیان ہوا وہ خود) مطرف سے سنا۔
حدیث نمبر: 2865
وحَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مَطَرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ وَزَادَ فِيهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : وَهُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا ، فَقُلْتُ : فَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ مَا بِهِ إِلَّا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا .
مطر نے کہا: مجھے قتادہ نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے، روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔“ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو، حتی کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔“ انہوں نے اس حدیث میں کہا: وہ تم میں (برائی کے کاموں میں دوسروں کے) پیچھے لگنے والے ہیں، گھر والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں (کہ کما کر دوسروں سے مستغنی ہو جائیں)۔ تو میں (قتادہ) نے (مطرف سے) کہا: ابوعبداللہ تو (اب) یہی ہوا کرے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں انھیں دیکھا (ایسا ہوتا تھا) کہ ایک شخص پورے قبیلے کی بکریاں چراتا تھا۔ اسے ان کی ایک کنیز کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا جس سے مجامعت کرتا تھا۔