کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہیں ان کو عذاب نہیں کرون گا“۔
حدیث نمبر: 2796
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ { 33 } وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 33-34 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " .
شعبہ نے عبدالحمید زیادی سے روایت کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ ابوجہل نے کہا: ”اے اللہ!“ اگر (یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ تو اس پر (آیت) نازل ہوئی: «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» ”اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر (اس طرح کا) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ (علیحدگی میں) استغفار کیے جا رہے تھے۔ اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ (ایمان لانے والوں کو) مسجد حرام سے روکتے ہیں۔“ سے آیت کے آخر تک۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2796
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»