کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2785
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا سورة الكهف آية 105 " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) ایک بہت بڑا (اور) موٹا آدمی آئے گا، (لیکن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ (وزن میں) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔“ (یہ آیت) پڑھ لو: «فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا» ”پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ، فَيَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 " ،
فضیل بن عیاض نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ”انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2786
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ ، وَقَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا ، قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 وَتَلَا الْآيَةَ .
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، فضیل کی حدیث کے مانند، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا: ”وہ (اللہ) ان (انگلیوں) کو ہلائے گا۔“ اور (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کھا، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے (اس طرح) ہنسے کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے (اس طرح) اللہ کی قدر نہیں کی (جس طرح) اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔“ (اور (پوری) آیت تلاوت فرمائی) «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» ”انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2786
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرْضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 " ،
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا: میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔“ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کھا، آپ (اس بات پر) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2786
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ ، تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ .
امام صاحب اپنے کئی اساتذہ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، ان سب کی روایت میں ہے، درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر، جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے۔تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، لیکن اس کی حدیث میں ہے۔اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور جریر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے۔ اس نے جو کچھ کہا، اس کی تصدیق اور اس پر تعجب کرتے ہوئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2786
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2787
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا، میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2787
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2788
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ " .
سالم بن عبداللہ نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں۔ (آج دوسروں پر) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟“ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، (آج) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟““
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2788
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2788
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ، فَيَقُولُ : أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا ، أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،
یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے ابوحازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کر کے دکھاتے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا: ”میں اللہ، میں بادشاہ ہوں۔““ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا، وہ اپنے نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک) ہل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر جائے گا؟
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2788
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2788
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ .
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا: مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(اللہ) جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا۔“ پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب صفة القيامة والجنة والنار / حدیث: 2788
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»