کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2519
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَنْصَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ " .
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو بھی بنو عبداللہ میں سے ہیں (ان کے علاقے میں رہنے والے) باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے اپنے مددگار ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان کے مددگار ہیں۔“
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
سفیان (بن سعید) نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ہرمز اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع (میرے) مددگار ہیں اور ان کا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی اور مددگار نہیں ہے۔“ (انہیں خالصتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت حاصل ہے۔)
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ سَعْدٌ فِي بَعْضِ : هَذَا فِيمَا أَعْلَمُ .
عبیداللہ بن معاذ کے والد نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، مگر اس حدیث میں یہ ہے کہ سعد نے ان میں سے بعض قبائل کے بارے میں کہا: ”میرے علم کے مطابق۔“
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةُ ، خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ ، وَالْحَلِيفَيْنِ ، أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ " .
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار اور مزینہ اور جو لوگ جہینہ سے ہیں یا آپ نے جہینہ فرمایا، بنو تمیم اور بنو عامر اور دو باہمی حلیفوں اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔“
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ ، وَأَسْلَمُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوَ قَالَ : جُهَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ ، وَطَيِّئٍ ، وَغَطَفَانَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس ذات کی قسم،جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،یقیناً غفار،اسلم،مزینہ اور جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں،یاجہینہ اور جو لوگ مزینہ سے ہیں،قیامت کے دن اللہ کے نزدیک،اسد،طئی اور غطفان سے ہوں گے۔"
حدیث نمبر: 2521
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَجُهَيْنَةَ ، أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ " ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، وَهَوَازِنَ ، وَتَمِيمٍ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"اسلم،غفار،مزینہ سے کچھ لوگ اور جہینہ،یاجہینہ کے کچھ لوگ اور مزینہ،اللہ کے نزدیک،میرے خیال میں،کہا،قیامت کے دن،اسد اور غطفان،ہوازن اور بنوتمیم سے بہتر ہوں گے۔"
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ ، وَغِفَارَ ، وَمُزَيْنَةَ ، وَأَحْسِبُ ، جُهَيْنَةَ ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَحْسِبُ ، جُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرٍ ، وَأَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، أَخَابُوا وَخَسِرُوا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ " ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ .
عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اقرع بن حابس (تمیمی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ سے حاجیوں کا سامان چرا نے والے (قبائل)اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ (کابھی نام لیا)۔۔۔محمد (بن یعقوب) ہیں جنھیں شک ہوا۔نے بیعت کر لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"تمھا را کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے(آپ نے فر یا)جہینہ بنو تمیم،بنو عامر بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ (قبیلے لوگوں کی نظر میں مرتبے کے اعتبار سے)ناکام ہو جا ئیں گے،خسارے میں رہیں گے؟"اس نے کہا: جی ہاں۔آپ نے فر یا:" مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ ان سے بہت بہتر ہیں ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ شک کا اظہار محمد نے کیا۔
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : وَجُهَيْنَةُ ، وَلَمْ يَقُلْ : أَحْسِبُ .
عبدالصمد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے بنو تمیم کے سردار محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب ضبی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی اور انہوں نے صرف جہینہ کہا: ”میرا خیال ہے“ (کا جملہ) نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَمِنْ بَنِي عَامِرٍ ، وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ " .
نصر بن علی جہضمی کے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ بنو تمیم، بنو عامر اور دو حلیف قبیلوں بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہیں۔“
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
عبدالصمد اور شبابہ بن سوار نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا ، قَالَ : فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ " .
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"تم لوگ کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ،اسلم اور غفار بنو تمیم،بنو عبداللہ بن غطفان اور عامر بن صعصہ سے بہتر ہوں۔"اور (پوچھتے ہو ئے) آپ نے آواز بلند کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر وہ (لوگوں کے نزدیک اپنی عزت بڑھانے میں) ناکام ہوں گے اورکم مرتبہ ہو جائیں گے۔آپ نے فر یا:"بے شک وہ ان سے بہتر ہیں۔"ابو کریب کی روایت میں ہے:"تم کیا سمجھتے ہو اگر جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار قبائل۔"
حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لِي : " إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عدی بن حاتم سے روایت ہے، کہا: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: سب سے پہلا صدقہ (باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا، جس کو آپ (عدی رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے۔
حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَأَصْحَابُهُ ، فقالوا : يا قَدِمَ الطُّفَيْلُ رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ دَوْسًا قَدْ كَفَرَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا ، فَقِيلَ : هَلَكَتْ دَوْسٌ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: حضرت طفیل (بن عمرو دوسی) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آئے اور آکر عرض کی: اللہ کے رسول! (ہمارے قبیلے) دوس نے کفر کیا اور (اسلام لانے سے) انکار کیا، آپ ان کے خلاف دعا کیجیے! (بعض لوگوں کی طرف سے) کہا گیا کہ اب دوس ہلاک ہو گئے۔ (لیکن) آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو (یہاں) لا۔“
حدیث نمبر: 2525
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ ، قَالَ : وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا ، قَالَ : وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں بنوتمیم سے تین باتوں کے سبب جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں،محبت کرتارہوں گا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے سنا،"وہ میری اُمت میں سے سب سے زیادہ دجال کے لیے سخت ثابت ہوں گے۔"اور آپ کے پاس ان کے صدقات پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں،"اور ان میں سے ایک لونڈی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ملکیت میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اسے آزاد کردو،کیونکہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہے۔"
حدیث نمبر: 2525
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
عمارہ نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: تین باتوں کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں، میں بنو تمیم سے مسلسل محبت کرتا آرہا ہوں، پھر اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔
حدیث نمبر: 2525
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ ، إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : ثَلَاثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي تَمِيمٍ ، لَا أَزَالُ أُحِبُّهُمْ بَعْدُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالًا فِي الْمَلَاحِمِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّجَّالَ .
شعبی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: تین صفات ہیں جو میں نے بنو تمیم کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں، اس کے بعد سے میں ان سے محبت کرتا ہوں اور (آگے) اسی معنی میں حدیث بیان کی، البتہ (شعبی نے) یہ کہا: ”وہ (مستقبل میں ہونے والی) بڑی جنگوں کے دوران میں لڑنے میں سب لوگوں سے زیادہ سخت ہوں گے۔“ اور انہوں نے دجال کا ذکر نہیں کیا۔