حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " ، فَقَالَ سَعْدٌ : مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا ، فَقِيلَ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ .
محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل ہیں، پھر بنو حارث بن خزرج ہیں، پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصار کے تمام گھرانوں میں خیر ہے۔“ حضرت سعد (بن عبادہ) رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسروں کو) ہم پر فضیلت دی ہے تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی بہت لوگوں پر فضیلت دی ہے۔
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
امام صاحب اس کے ہم معنی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَ سَعْدٍ .
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی بات بیان نہیں کی۔
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لَآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي " .
حضرت ابواسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عتبہ کے ہاں خطبہ دیتے ہوئے بیان کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انصار کا بہترین خاندان بنو نجار ہے،بنو عبداشہل کا گھرانہ ہے،بنوحارث بن خزرج کا قبیلہ ہے اور بنو ساعدہ کا خاندان ہے،"اللہ کی قسم!اگر میں(اپنی طرف سے)کسی گھرانہ کو ترجیح دیتا تو اپنے خاندان کو ترجیح دیتا۔
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَال : شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَشْهَدُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أُتَّهَمُ أَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ ، وَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ ، وَقَالَ : خُلِّفْنَا فَكُنَّا آخِرَ الْأَرْبَعِ أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي ، آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ ، فَقَالَ : أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ أَوَ لَيْسَ حَسْبُكَ أَنْ تَكُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ ، فَرَجَعَ ، وَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُه أَعْلَمُ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ .
حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ شہادت دیتے تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" انصار کے گھرانوں میں سے بہترین بنو نجارہیں پھر بنوعبدالا شہل پھر بنوحارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ کا گھرا نوں میں خیر ہے۔ابو سلمہ نے کہا: حضرت ابو اسید نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھ پر تہمت لگا ئی جا رہی ہے؟ اگر میں جھوٹا ہو تا تو اپنی قوم بنوساعدہ کا نام پہلے لیتا۔(انھوں نے کہا:) سیہ بات حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچی تو ان کو رنج ہوا اور انھوں نے کہا: ہم کو پیچھے کر دیا گیا ہم چاروں خاندانوں کے آخر میں آگئے،میرے گدھے پر زین کسور،میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا تو ان کے بھتیجے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بات کی،کہا آپ اس لیے جا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کردیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جا نتے ہیں۔کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں کہ آپ چار میں سے چوتھے ہوں (خیرو برکت میں شامل ہوں؟)تو وہ باز آئے اور کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔اور گدھے (کی زین کھول دینے) کے بارے میں حکم دیا تو وہ کھول دی گئی۔
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ الْأَنْصَارِ أَوْ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ فِي ذِكْرِ الدُّورِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”انصار میں سے یا (فرمایا:) انصار کے گھرانوں میں سے بہترین۔۔۔“ (آگے انصار کے) گھرانوں کے بارے میں ان سب (راویوں) کی حدیث کے مانند ہے۔ انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2512
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : " أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ثُمَّ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : أَنَحْنُ آخِرُ الْأَرْبَعِ حِينَ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ ، فَأَرَادَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ : اجْلِسْ أَلَا تَرْضَى أَنْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَكُمْ فِي الْأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّى ، فَمَنْ تَرَكَ فَلَمْ يُسَمِّ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَمَّى ، فَانْتَهَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ مسلمانوں کی ایک بڑی مجلس میں تھے فر یا:"میں تم کو انصار کا بہترین گھرا نہ بتاؤں؟"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا:جی ہاں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فر یا:"بنو عبدالاشہل۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر کون ہیں؟فر یا:" بنو نجا ر۔۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر کو ن ہیں؟فر یا:" پھر بنو حارث بن خزرج۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر کو ن؟فر یا:" پھر بنو ساعدہ۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر کون ہیں؟فر یا:" پھر انصار کے تمام گھرا نوں میں خیر ہے۔"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرانےکا نا م لیا تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہا: کیا ہم چاروں میں سے آخری ہیں؟انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنی چا ہی تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا:بیٹھ جاؤ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھا رے گھرا نے کا نام ان چار گھرانوں میں لیا ہے جن کا آپ نے نام لیا ہے۔ حالانکہ جن گھرانوں کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا،ان کی تعداد ان سے زیادہ ہے جن کا نام لیا۔پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے سے رک گئے۔