حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ جَمِيعًا ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَأَقُولُ : إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ " .
حماد نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے تین راتوں تک خواب میں دکھائی دیتی رہی ہو، ایک فرشتہ ریشم کے ایک ٹکڑے پر تمہیں (تمہاری تصویر کو) لے کر میرے پاس آیا۔ وہ کہتا: یہ تمہاری بیوی ہے، میں تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹاتا تو وہ تم ہوتیں، میں کہتا: یہ (پیشکش) اگر اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:"ہاں،جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہوتوکہتی ہو،نہیں،رب محمد کی قسم!اور جب تم ناراض ہوتی ہو،تو کہتی ہو،نہیں رب ابراہیم کی قسم!میں نے کہا،ٹھیک ہے،اللہ کی قسم!اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!میں صرف آپ کانام ہی چھوڑتی ہوں۔"
حدیث نمبر: 2439
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”نہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!“ تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2440
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي ، فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيّ " .
عبدالعزیز بن محمد نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں، کہا: اور میری سہیلیاں میرے پاس آتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (آمد کی) وجہ سے (گھر کے کسی کونے میں) چھپ جاتی تھیں، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو (بلا کر) میری طرف بھیج دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 2440
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فِي بَيْتِهِ وَهُنَّ اللُّعَبُ .
امام صاحب تین اساتذہ کی تین سندوں سے،ہشام ہی کی سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں جریر کی حدیث ہے،میں آپ کے گھر میں بچیوں سے یعنی گڑیوں سے کھیلتی تھی۔
حدیث نمبر: 2441
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ لوگ اپنے ہدیے بھیجنے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کی باری) کا دن ڈھونڈا کرتے تھے، اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا چاہتے تھے۔
حدیث نمبر: 2442
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، وَأَنَا سَاكِتَةٌ ، قَالَتْ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ ، فَقَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : فَأَحِبِّي هَذِهِ ، قَالَتْ : فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي ، قَالَتْ : وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَ لَهَا : مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ ، فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُولِي لَهُ : إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ ، وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا ، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ ، وَأَعْظَمَ صَدَقَةً ، وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ ، وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ ، كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ ، قَالَتْ : فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَتْ : ثُمَّ وَقَعَتْ بِي ، فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ ، وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ ، هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا ؟ قَالَتْ : فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَتَبَسَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ " .
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اجازت مانگی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں (یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کرتے تھے) اور میں خاموش تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟“ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو عائشہ سے محبت رکھ۔“ یہ سنتے ہی فاطمہ اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا بیان کیا۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم سمجھتی ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں، اس لیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں (ابوقحافہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں)۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اب عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار، اللہ سے ڈرنے والی، سچی بات کہنے والی، رشتہ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی، فقط ان میں ایک تیزی تھی (یعنی غصہ تھا) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری چادر میں تھے، جس حال میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں۔ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔“
حدیث نمبر: 2442
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ : حَدَّثَنِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الْمَعْنَى ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَثْخَنْتُهَا غَلَبَةً .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے زہری ہی کی سند سے،اس کے ہم معنی بیان کرتے ہیں،صرف اتنا فرق ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،جب میں اس پربرسی تو میں نے جلد ہی اسے غلبہ سے گھائل کردیا،یعنی ان کو چپ کرادیا۔
حدیث نمبر: 2443
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَفَقَّدُ ، يَقُولُ : " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ ، أَيْنَ أَنَا غَدًا ، اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي ، قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي " .
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کے دوران میں) دریافت کرتے فرماتے تھے: ”آج میں کہاں ہوں؟ کل میں کہاں ہوں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگتا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن آ ہی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا: جب میری باری کا دن آیا تو اللہ نے آپ کو اس طرح اپنے پاس بلایا کہ آپ میرے سینے اور حلق کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا ، وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ " .
مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہوں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے فرما رہے تھے اور آپ ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور انہوں نے کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی، آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق (اعلیٰ) کے ساتھ ملا دے۔“
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے،ہشام ہی کے واسطہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2444
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ : مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69 ، قَالَتْ : فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ " .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، فرمایا: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ کہا: تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اس وقت آپ کی آواز بھاری ہو گئی تھی آپ فرما رہے تھے: ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا: یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) اور یہی بہترین رفیق ہیں۔“ کہا: تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 2444
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، في رجال من أهل العلم ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ : إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : إِذًا لَا يَخْتَارُنَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ : " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَوْلَهُ : اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى " .
امام زہری رحمۃ ا للہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی مو جو دگی میں خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فر یا کرتے تھے۔"کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جا تی۔یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جا تا ہے،پھر اس کو اختیا ر دیا جا تا ہے۔"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کاسر میرے زانو پر تھا۔آپ کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگا ہیں اٹھا ئیں،پھر فر یا:" اے اللہ!رفیق اعلیٰ!"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نے(دل میں)) کہا:اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر یا:اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فر یا کرتے تھے۔وہ آپ کےاپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی:'کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکا نا دکھایا جا تا ہے اور اسے (موت کو قبول کرنے یا مؤخرکرانے کا)اختیار دیا جا تا ہے۔"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری بول جو آپ کی زبان پر آیا،یہ تھا،"اے اللہ!اوپر کاساتھی۔"
حدیث نمبر: 2445
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ ، فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا ، فَقَالَتْ : حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ ، قَالَتْ : بَلَى ، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا ، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ ، وَتَقُولُ : يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا ، أَوْ حَيَّةً ، تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا " .
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نام قرعہ نکلا، وہ دونوں آپ کے ساتھ سفر پر نکلیں، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جاتیں اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں! پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا (سوار) تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پایا تو انہیں سخت رشک آیا، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے پاؤں اذخر (کی گھاس) میں مار مار کر کہنے لگیں: یا رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں انہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
سلیمان بن بلال نے عبداللہ بن عبدالرحمان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسی کھانوں پر ثرید کی فضیلت۔“
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ بْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ .
امام صاحب یہی روایت اپنے اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2447
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
عبدالرحیم بن سلیمان اور یعلیٰ بن عبید نے زکریا سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ان (ابوسلمہ) کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تم کو سلام کہتے ہیں۔“ کہا: تو میں نے (جواب میں) کہا: ”وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ“ (اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو!)۔
حدیث نمبر: 2447
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .ش
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2447
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا . وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام صاحب مذکورہ استاد سے ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى " .
زہری نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائش! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ”وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ“ (اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو!)۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: آپ وہ کچھ دیکھتے تھے جو میں نہیں دیکھتی تھی۔