کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سیدنا یوسف علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2378
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ، قَالَ : أَتْقَاهُمْ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ؟ قَالَ : فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ؟ قَالَ : فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقُهُوا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ کریم (معزز) کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے زیادہ متقی ہو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھ رہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو (پھر سب سے بڑھ کر کریم) اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں، وہ (ان کے والد) بھی اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں اور وہ اللہ کے خلیل (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اس کے بارے میں بھی آپ سے نہیں پوچھ رہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تم قبائل عرب کے حسب و نسب کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں اگر دین کو سمجھ لیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2378
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»