کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً ، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا ، إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ ، قَالَ : فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ ، قَالَ : فَجَمَحَ مُوسَى بِأَثَرِهِ ، يَقُولُ : ثَوْبِي حَجَرُ ، ثَوْبِي حَجَرُ ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ ، حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَخَذَ ثَوْبَهُ ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ ، أَوْ سَبْعَةٌ ، ضَرْبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحَجَرِ " .
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسرائیل ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے، وہ لوگ (آپس میں) کہنے لگے: واللہ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ نہانے سے اس کے سوا اور کوئی بات نہیں روکتی کہ انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے، وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ نکلا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ کہتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے: میرے کپڑے، پتھر! میرے کپڑے، پتھر! یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جائے ستر دیکھ لی۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی تکلیف نہیں۔“ فرمایا: انہوں نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! پتھر پر چھ یا سات زخموں کے جیسے نشان پڑ گئے، یہ پتھر کو موسیٰ علیہ السلام کی مار تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 339
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 339
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا حَيِيًّا ، قَالَ : فَكَانَ لَا يُرَى مُتَجَرِّدًا ، قَالَ : فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ : إِنَّهُ آدَرُ ، قَالَ : فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ ، فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَى حَجَرٍ ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى ، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ ، ثَوْبِي حَجَرُ ، ثَوْبِي حَجَرُ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَنَزَلَت : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 " .
عبداللہ بن شفیق نے کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام باحیا مرد تھے، کہا: انہیں برہنہ نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ کہا تو بنی اسرائیل نے کہا: انہیں خصیوں کی سوجن ہے۔ کہا: (ایک دن) انہوں نے تھوڑے سے پانی (کے ایک تالاب) کے پاس غسل کیا اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھ دیے تو وہ پتھر بھاگ نکلا۔ آپ علیہ السلام اپنا عصا لے کر اس کے پیچھے ہو لیے اسے مارتے تھے (اور کہتے تھے:) میرے کپڑے پتھر! میرے کپڑے پتھر! یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک مجمع کے سامنے رک گیا۔ اور (اس کے حوالے سے آیت) اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا» ”اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی کہی ہوئی بات سے بری کیا اور وہ اللہ کے نزدیک انتہائی وجیہ (خوبصورت اور وجاہت والے) تھے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 339
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2372
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، قَالَ ، فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ ، فَقُلْ لَهُ : يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالْآنَ ، فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " .
محمد بن رافع اور عبدبن حمید نے مجھے حدیث بیان کی۔ عبدنے کہا: عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی اور ابن رافع نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے ابن طاوس سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا جب وہ (انسانی شکل اور صفات کے ساتھ) ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے تھپڑ رسید کیا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب کی طرف واپس گیا اور عرض کی: تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو موت نہیں چاہتا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اسے لوٹا دی اور فرمایا: دوبارہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ایک بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں، ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ان میں ہر بال کے بدلے میں ایک سال انہیں ملے گا۔ (فرشتے نے پیغام دیا تو موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: پھر موت ہو گی۔ تو انہوں نے کہا: پھر ابھی (آ جائے) تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے اتنا قریب کر دے جتنا ایک پتھر کے پھینکنے کا فاصلہ ہو تا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں وہاں ہو تا تو میں تمہیں (بیت المقدس کے) راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2372
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ ، قَالَ : فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ ، فَفَقَأَهَا ، قَالَ : فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ : إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ ، لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي ، قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي ، فَقُلِ الْحَيَاةَ تُرِيدُ ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ تَمُوتُ ، قَالَ : فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ ، رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ ، رَمْيَةً بِحَجَرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ : " لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ " ،
ہمام بن منبہ کی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کردہ احادیث میں سے ایک یہ ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ملک الموت حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اپنے رب کے پاس چلیں؟ تو حضرت موسیٰ ؑ نے اس کی آنکھ پر تھپڑ مار ا اور اس کی آنکھ نکا ل دی فر یا:" ملک الموت اللہ تعا لیٰ کے پاس واپس گیا اور کہا: تونے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا تھا جو موت نہیں چاہتا،اور اس نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے چنانچہ اللہ تعا لیٰ نے اس کی آنکھ اسے لو ٹا دی اور فر یا: میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو: آپ زند گی چاہتے ہیں؟اگر زندگی چا ہتے ہیں تو اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت پر رکھیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ زندہ رہیں گے۔(یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ نے) کہا: پھر کیا ہو گا؟کہا: پھر آپ کو موت آجائے گی کہا: تو پھر ابھی جلدی ہی (موت آجا ئے اور دعا کی) اے میرے پروردگار!مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر کے پھینکنے کے فا صلےپرموت دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" االلہ کی قسم! گر میں اس جگہ کے پاس ہو تا تو میں تم کو راستے کی ایک جانب سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2372
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2372
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ .
محمد بن یحییٰ نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2372
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ ، أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ ، أَوْ لَمْ يَرْضَهُ ، شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ : لَا ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ ، قَالَ : فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَطَمَ وَجْهَهُ ، قَال : تَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، قَالَ : فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّ لِي ذِمَّةً ، وَعَهْدًا ، وَقَالَ : فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ، قَالَ : قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى الْبَشَرِ ، وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ ، أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، آخِذٌ بِالْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي ، أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ ، أَوْ بُعِثَ قَبْلِي ، وَلَا أَقُولُ ، إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک بار ایک یہودی اپنا سامان بیچ رہا تھا اس کو اس کے کچھ معاوضے کی پیش کش کی گئی جو اسے بری لگی یا جس پر وہ راضی نہ ہوا۔شک عبدالعزیز کو ہوا۔وہ کہنے لگا نہیں،اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی!انصار میں سے ایک شخص نے اس کی بات سن لی تو اس کے چہرے پر تھپڑلگا یا،کہا: تم کہتے ہو۔ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی!جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف لا چکے اور) ہمارے درمیان مو جو د ہیں۔کہا: تو وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا اور کہنے لگا: ابو القاسم!میری ذمہ داری لی گئی ہے اور ہم سے (سلامتی کا) وعدہ کیا گیا ہے۔اور کہا: فلا ں شخص نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: " تم نے اس کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا؟کہا کہ اس نے کہا تھا۔اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!۔اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کہا: کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ آپ ہمارے درمیان مو جود ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے غصےکا پتہ چلنے لگا،پھر آپ نے فر یا:"اللہ کے نبیوں کے مابین (انھیں ایک دوسرے پر)فضیلت نہ دیا کرو اس لیے کہ جب صور پھونکا جا ئے گا تو سوائے ان کے جنھیں اللہ چا ہے گا آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق ہے سب کے ہوش و حواس جا تے رہیں گے،پھر دوبارہ صور پھونکا جا ئے گا،تو سب سے پہلے جسے اٹھا یا جا ئے گا وہ میں ہو ں گا یا (فرمایا) جنھیں سب سے پہلے اٹھا یا جا ئے گا میں ان میں ہو ں گا۔تو (میں دیکھوں گا۔کہ) حضرت موسیٰ ؑ عرش کو پکڑ ے ہو ئے ہوں گے، مجھے معلوم نہیں کہ ان کے لیے یوم طور کی بے ہو شی کو شمار کیا جا ئے گا۔(اور وہ اس کے عوض اس بے ہوشی سےمستثنیٰ ہو ں گے،)یاانھیں مجھ سے پہلے ہی اٹھا یا جا ئے گا،میں یہ نہیں کہتا کہ کو ئی یو نس بن متی ؑ سے افضل ہے۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2373
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2373
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً .
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے اسی سند سے بالکل اسی طرح بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2373
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " اسْتَبَّ رَجُلَانِ ، رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ ، وَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، عَلَى الْعَالَمِينَ ، قَالَ : فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ، وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي ، أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ ، فَأَفَاقَ قَبْلِي ، أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ ؟ " .
یعقوب کے والد ابراہیم (بن سعد) نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: دو آدمیوں کی تکرار ہو گئی، ایک یہودیوں میں سے تھا اور ایک مسلمانوں میں سے۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی! تو اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور اس کے اپنے اور مسلمان کے درمیان جو کچھ ہوا تھا وہ سب آپ کو بتا دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو (جب) تمام انسان ہوش و حواس سے بے گانہ ہو جائیں گے، سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو موسیٰ علیہ السلام عرش کی ایک جانب (اسے) پکڑے کھڑے ہوں گے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے بے ہوش ہوئے تھے، اس لیے مجھ سے پہلے اٹھائے گئے یا وہ ان میں سے ہیں جنہیں اللہ نے «إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ» ’سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا‘ کے تحت مستثنیٰ کیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2373
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2373
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ . عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ،
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص کے درمیان تکرار ہوئی، جس طرح ابن شہاب سے ابراہیم بن سعد کی روایت کردہ حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2373
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2374
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَلَا أَدْرِي ، أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ ، فَأَفَاقَ قَبْلِي ، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انھوں نے (یوں)کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)"مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ ؑ) ان میں سے تھے جنھیں بے ہوشی تو ہو ئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا۔یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2374
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي أَبِي .
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،"انبیاء ؑ کے درمیان فضیلت قائم نہ کرو۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَيْتُ ، وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ : " مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " .
ہداب بن خالد اور شیبان بن فروخ نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی اور سلیمان تیمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معراج کی شب میں سرخ ٹیلے کے قریب آیا۔“ اور ہداب کی روایت میں ہے: ”میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2375
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2375
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ " ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عِيسَى : مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي .
عیسیٰ بن یونس، جریر اور سفیان نے سلیمان تیمی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔“ اور عیسیٰ کی حدیث میں مزید یہ ہے: ”جس رات مجھے اسراء پر لے جایا گیا میں (موسیٰ علیہ السلام کے قریب سے) گزرا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2375
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»