حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”میں سب لوگوں سے ابن مریم علیہ السلامم کے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ، الْأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عیسیٰ علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام وہ ایک باپ کے بیٹے ہیں، میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ ، قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ " .
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں کی نسبت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے، اور درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔“ (نبوت سے نبوت جڑی ہوئی ہے۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ ، إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ ، إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36 .
معمر نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہو تا ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے۔ ماسوائے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور ان کی والدہ کے۔“ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو (حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے کہا): «إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ جَمِيعًا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ : مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ .
معمر اور شعیب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ خبر دی، دونوں نے کہا: ”(بچہ) جب پیدا ہو تا ہے تو (شیطان) اسے کچوکا لگاتا ہے اور وہ خود کو شیطان کے کچوکا لگانے سے چیخ کر روتا ہے۔“ اور شعیب کی حدیث میں (خود کو، کے بغیر صرف) ”شیطان کے کچوکا سے“ کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، إِلَّا مَرْيَمَ ، وَابْنَهَا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس سلیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے شیطان کچوکا لگاتا ہے، ماسوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے۔“
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
سہیل (بن ابی صالح) کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولادت کے وقت بچے کا رونا شیطان کے کچوکے سے ہو تا ہے۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، رَجُلًا يَسْرِقُ ، فَقَالَ لَهُ عِيسَى : سَرَقْتَ ، قَالَ : كَلَّا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَقَالَ عِيسَى : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، وَكَذَّبْتُ نَفْسِي " .
ہمام بن منبہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کردہ احادیث میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو اسے حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ ا س نے کہا، ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، میں نے اللہ پر یقین کیا اور اپنے آپ کو خطار کار قرار دیا۔‘‘