کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔
حدیث نمبر: 2356
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے کوئی کام کیا اور اس کے کرنے کی اجازت دی۔ آپﷺ کے کچھ ساتھیوں تک یہ بات پہنچی تو گویا کہ انہوں ہے اس کام کو ناپسند کیا اور اس سے احتراز (پرہیز) کیا، سو آپﷺ تک یہ معاملہ پہنچا، آپﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے او رفرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، انہیں میری طرف سے ایک کام کی خبر پہنچی، میں نے ا س کی رخصت دی، انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور اس سے پر ہیز کیا، سو اللہ کی قسم! میں سب سے اللہ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں اور اس سے سب سے زیادہ خوف کھاتا ہوں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2356
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2356
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وقَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَكِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
حفص بن غیاث اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2356
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2356
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ نے ایک کام کی رخصت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے پر ہیز کیا، نبی اکرم ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپﷺ ناراض ہوئے، حتی کہ ناراضی کا چہرے سے اظہار ہوا، پھر آپﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے، اس کام سے بے رغبتی برتتے ہیں، جس کی مجھے رخصت دی گئی ہے، سو اللہ کی قسم! میں ان سے اللہ کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں او ران سے اس سے زیادہ ڈرتا ہوں۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2356
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»