کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مہر نبوت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2344
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ ، قَالَ : لَا ، بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا ، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ ، مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ " .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کے اگلےبال سفید ہو گئے تھے، اور جب آپﷺ تیل لگا لیتے تو وہ واضح نہیں ہوتے تھے، اور جب آپ کا سر پراگندہ ہوتا، نظر آتے اور آپﷺ کی داڑھی کے بال بہت تھے ایک آدمی نے پوچھا: آپ کا چہرہ تلوار جیسا تھا؟ یعنی لمبا چمکدار تھا، کہا نہیں، بلکہ آفاب و مہتاب جیسا تھا، گول تھا اور روشن تھا اور میں نے آپ کے کندھے کے پاس کبوتری کے انڈے جیسی مہردیکھی، جو آپ کے جسم کے مشابہ تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2344
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ " .
شعبہ نے سماک سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی، جیسے وہ کبوتری کا انڈا ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2344
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2344
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2344
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2345
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ ، فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ " .
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میری خالہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئی اور کہا، اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے کو تکلیف ہے تو آپﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپﷺ نے وضو کیا تو میں نے آپﷺ کے وضو کا پانی پیا، پھر میں آپ کی پشت کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپﷺ کے کندھوں کے درمیان، آپ کی مہر دیکھی، جو ڈولی کے بٹن جیسی تھی یا ہنس کے انڈے جیسی تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2345
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2346
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا ، وَلَحْمًا ، أَوَ قَالَ : ثَرِيدًا ، قَالَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكَ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة محمد آية 19 ، قَالَ : ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ ، كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ " .
عاصم احول نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور میں نے آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت یا کہا: ثرید کھایا تھا، (عاصم نے) کہا: میں نے ان (عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے دعائے مغفرت کی تھی، انہوں نے کہا: ہاں، اور تمہارے لیے بھی، پھر یہ آیت پڑھی، ”اور اپنے گناہ کے لیے استغفار کیجیے اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کے لیے بھی۔“ کہا: پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے ہوا تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، آپ کے بائیں شانے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح، اس پر خال (تل) تھے جس طرح جلد پر آغاز شباب کے کالے نشان ہوتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2346
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»