کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے برتاؤ اور آپ کی تواضع۔
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وهارون بن عبد الله جميعا ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ ، جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا ، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے، مدینہ کے نوکر چاکر، اپنے اپنے پانی کےبرتن لاتے تو جو برتن بھی لایا جاتا، آپﷺ اس میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے، بسا اوقات وہ انتہائی ٹھنڈی صبح آپﷺ کے پاس آتے تو آپ برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2324
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ ، إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جبکہ سرمونڈنے والا آپﷺ کے بال مونڈ رہا تھا اور آپ کےساتھی، آپ کو گھیرے ہوئے تھے اور وہ چاہتے تھے، آپ کا بال کسی آدمی کے ہاتھ میں گرے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2325
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 2326
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً ، فَقَالَ : يَا أُمَّ فُلَانٍ ، انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ ، فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت کی عقل میں کچھ فتورتھا، وہ کہنے لگی، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے آپ سے کام ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ”اے ام فلاں، دیکھ تو کس گلی میں کھڑی ہو کر بات کرنا چاہتی ہے، تاکہ میں تیری ضرورت پوری کر دوں۔‘‘ پھر آپ نے اس کے ساتھ کسی راستہ میں کھڑے ہو کر علیحدگی میں گفتگو کی، حتیٰ کہ اس نے اپنی ضرورت پوری کر لی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2326
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»