حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .
ہمیں زائدہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبدالمطلب بن عمیر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں۔“
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مسعر اور شعبہ دونوں نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2290
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا ، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ " ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ،
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:”میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں، جو اس حوض پر پینے کے لیے آجائے گا، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انہیں جانتا ہوں گا، وہ مجھے جانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی۔“ابوحازم نے کہا: میں یہ حدیث (سننے والوں کو) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے: آپ نے سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 2291
قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ ، فَيَقُولُ : إِنَّهُمْ مِنِّي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي .
نعمان بن ابی عیاش نے کہا: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اس (حدیث) میں مزید یہ بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے:”یہ میرے (لوگ) ہیں تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ تو میں کہوں گا: دوری ہو، ہلاکت ہو! ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد (دین میں) تبدیلی کردی۔“
حدیث نمبر: 2291
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ .
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مذکورہ بالا حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2292
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ ، وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا " .
نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرا حوض (لمبائی چوڑائی میں) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے (چاروں) کنارے برابر ہیں (مربع ہے)، اس کا پانی چاندی سے زیادہ چمکدار، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے، اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔“
حدیث نمبر: 2293
(حديث مرفوع) قَالَ : وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا ، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا .
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حوض میں (موجود) میں ہوں گا تا کہ دیکھوں کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، کچھ لوگوں کو مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا (کچھ) کیا؟ آپ کے بعد انہوں نے اپنی ایڑیوں پر واپس گھومنے میں (ذرا) دیر نہیں کی۔“(نافع نے) کہا: ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے:”اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں یا ہمیں کسی آزمائش میں ڈال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 2294
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ : " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ ، فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ ، فَلَأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے اور فرما رہے تھے:”میں حوض پر ہوں گا۔ انتظار کر رہا ہوں گا کہ پاس پینے کے لیے کون آتا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے کچھ لوگوں کو کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا، تو میں کہوں گا: میرے رب! (یہ) میرے ہیں میری امت میں سے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر پلٹتے رہے۔“
حدیث نمبر: 2295
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ : اسْتَأْخِرِي عَنِّي ، قَالَتْ : إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ ، وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ ، فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، فَأَقُولُ : فِيمَ هَذَا ؟ ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا " .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں لوگوں سے حوض کا تذکرہ سنتی تھی اور اس کا ذکر میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا تھا، ایک دن ایک لڑکی مجھے کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا: ”اے لوگو!‘‘ میں لڑکی سے کہا، مجھ سے دور ہو جاؤ، اس نے کہا، آپﷺ نے مردوں کو بلایا ہے، عورتوں کونہیں بلایا تومیں نے کہا، میں بھی لوگوں میں داخل ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، تم ہوشیار ہو جاؤ، تم میں سے کوئی اس حال میں نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور ہٹایا جائے، جس بھٹکا ہوا اونٹ ہٹایا جاتا ہے، سو میں کہوں گا، یہ کس بنا پر ہوا؟ تو کہا جائے گا، تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے تیرے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں تومیں کہوں گا، دوری ہو، اس کو دور لے جاؤ۔‘‘
حدیث نمبر: 2295
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا : كُفِّي رَأْسِي ، بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ .
ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں عبداللہ بن رافع نے حدیث سنائی، کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا، اس وقت وہ کنگھی کرا رہی تھیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اے لوگو!“انہوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا: میرا سر چھوڑ دو! جس طرح بکیر نے قاسم بن عباس سے حدیث بیان کی۔“
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا " .
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اہل احد پر اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے، پھر آپ پلٹ کر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تم پر گواہی دینے والا ہوں گا اور میں، اللہ کی قسم! جیسے اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں گا۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا (فرمایا:) زمین کی چابیاں عطا کی گئیں اور اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد تم شرک کرو گے۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم ان (خزانوں کے معاملے) میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے (کہ ان میں سے کون زیادہ فائدہ اٹھاتا اور زیادہ دولت مندی کا مظاہرہ کرتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 2296
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ، فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا ، وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ عُقْبَةُ : فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ .
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔“
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے شقیق بن سلمہ اسدی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میں کچھ اقوام (لوگوں) کے بارے میں (فرشتوں سے) جھگڑوں گا، پھر ان کے حوالے سے (فرشتوں کو) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: بلاشبہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں (بدعات) نکالی تھیں۔“
حدیث نمبر: 2297
وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي .
یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی اور اس میں ”میرے ساتھ ہیں،میرے ساتھی ہیں۔‘‘ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ ، وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ .
جریر اور شعبہ نے مغیرہ سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند روایت کی۔ شعبہ کی مغیرہ سے روایت (کی سند) میں یہ الفاظ ہیں: میں نے ابووائل سے سنا۔“
حدیث نمبر: 2297
وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ ، وَمُغِيرَةَ .
عبثر اور ابن فضیل دونوں نے حصین سے انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جس طرح اعمش اور مغیرہ کی روایت ہے۔“
حدیث نمبر: 2298
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ ، وَالْمَدِينَةِ " ، فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ ؟ قَالَ : الْأَوَانِي ، قَالَ : لَا ، فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ : تُرَى فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ .
حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، ”میرا حوض، صنعاء اور مدینہ کے فاصلہ کے برابر ہے۔‘‘ تو حضرت مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ان سے پوچھا، کیا تو نےآپ سے ”برتنوں کے بارے میں نہیں سنا‘‘ اس نے کہا، نہیں تو حضرت مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، ”اس میں برتن ستاروں کی مانند دکھائی دیں گے۔‘‘
حدیث نمبر: 2298
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَذَكَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ ، وَقَوْلَهُ .
حرمی بن عمارہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے معبدبن خالد سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور انہوں نے (حرمی بن عمارہ) نے حوض کا ذکر کیا، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ انہوں نے حضرت مستورد اور ان (حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ) کا قول ذکر نہیں کیا۔“
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ ، وَأَذْرُحَ " .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارےآگے حوض ہے، اس کے دونوں کناروں کا فاصلہ، اتنا ہے، جتنا جرباء اور اذرح کا فاصلہ۔‘‘
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ ، وَأَذْرُحَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى : حَوْضِي .
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبیداللہ بن سعید نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”تمہارے آگے حوض ہے (اس کی وسعت اتنی ہے جتنا) جرباء اور اذرح کے درمیان کا فاصلہ ہے۔“اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ”میرا حوض“ کے الفاظ ہیں۔“
حدیث نمبر: 2299
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : قَرْيَتَيْنِ بِالشَّأْمِ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ : ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .
عبیداللہ نے کہا میں نے استاد سے پوچھا تو اس نے کہا، یہ شام کی دو بستیاں ہیں، جن کے درمیان فاصلہ تین رات کی مسافت کے بقدر ہے اور ابن بشر کی روایت میں ہے، تین دن کی مسافت کے بقدر۔
حدیث نمبر: 2299
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت کی۔“
حدیث نمبر: 2299
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ ، وَأَذْرُحَ ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا " .
عمر بن نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے سامنے ایسا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان کی مسافت ہے اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں جو اس تک پہنچے گا اور اس میں سے پیے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2300
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ ؟ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا ، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ ، آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .
عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے (تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں)۔ یاد رکھو! جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہوتے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جو ان سے (شراب کوثر) پی لے گا وہ اپنے ذمے (جنت میں جانے کے دورانیے) کے آخر تک کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت (کی باران رحمت) کے دو پرنالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک (کا فاصلہ) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ ، فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ ؟ فَقَالَ : مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ ، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ ؟ فَقَالَ : أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ " .
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن (انصار اصلاً یمن سے تھے) کے لیے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ میں (اپنے حوض کے پانی پر) اپنی لاٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا۔“آپ سے اس (حوض) کی چوڑائی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے کھڑے ہونے کی (اس) جگہ سے عمان تک۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (حوض) کے مشروب کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:”وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پرنالے اس میں تیز سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا۔“
حدیث نمبر: 2301
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هِشَامٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ .
شیبان نے قتادہ سے ہشام کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر اس نے اس طرح کہا:”میں قیامت کے دن حوض کے پانی پینے کی جگہ پر ہوں گا۔“
حدیث نمبر: 2301
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثَ الْحَوْضِ ، فَقُلْتُ لِيَحْيَي بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ ، فَقَالَ : وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ ، فَقُلْتُ : انْظُرْ لِي فِيهِ ، فَنَظَرَ لِي فِيهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ .
محمد بن بشار نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حماد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی، میں نے یحییٰ بن حماد سے کہا: یہ حدیث آپ نے ابوعوانہ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: اور شعبہ سے بھی سنی ہے۔ میں نے کہا: میری خاطر اس میں نگاہ (بھی) ڈالیں (آپ کے صحیفے میں جہاں لکھی ہوئی ہے اسے بھی پڑھ لیں) انہوں نے میری خاطر اس میں نظر کی (اسے پڑھا) اور مجھے وہ حدیث بیان کی، (ان کی روایت میں کسی بھول چوک کا بھی امکان نہیں)۔“
حدیث نمبر: 2302
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ " .
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض سے لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح اجنبی اونٹوں کو (اپنے گھاٹ سے) ہٹایا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2302
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی کے مانند۔“
حدیث نمبر: 2303
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَدْرُ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ ، وَصَنْعَاءَ مِنْ الْيَمَنِ ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کا فاصلہ، ایلہ اور صنعائے یمن کے درمیان فاصلہ جیسا ہے اور اس میں کوزے آسمان کےستاروں کی تعداد جتنے ہیں۔‘‘
حدیث نمبر: 2304
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ ، اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي ، أُصَيْحَابِي ، فَلَيُقَالنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حوض پر میرے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی آئیں گے حتیٰ کہ جب میں انہیں دیکھوں گا اور ان کو میرے سامنے کیا جائے گا تو انہیں مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے اٹھا لیا جائے، میں زور دے کر کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔“
حدیث نمبر: 2304
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَزَادَ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ .
مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم میں روایت کی اور اس میں مزید یہ کہا: اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔“
حدیث نمبر: 2303
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِعَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ ، وَالْمَدِينَةِ " .
معتمر کے والد سلیمان نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے حوض کی دو طرفوں (دونوں کناروں) کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان ہے۔“
حدیث نمبر: 2303
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُمَا شَكَّا ، فَقَالَا : أَوْ مِثْلَ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ : مَا بَيْنَ لَابَتَيْ حَوْضِي .
ہشام اور ابوعوانہ دونوں نے قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر ان دونوں نے شک سے کام لیتے ہوئے کہا: یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مدینہ اور عمان کے درمیان کی مسافت کے مانند (فاصلہ ہے)“اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں۔”میرے حوض کے دونوں کناروں کے درمیان۔“
حدیث نمبر: 2303
وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
سعید نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس میں آسمان کے ستاروں جتنی تعداد میں سونے چاندی کے کوزے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2303
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مِثْلَهُ ، وَزَادَ : أَوْ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ .
شیبان نے قتادہ سے روایت کی کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس (سابقہ روایت) کے مانند اور مزید بیان کیا:”یا آسمان کے ستاروں سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2305
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ ، وَأَيْلَةَ ، كَأَنَّ الْأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ " .
سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس (حوض) کے دو کناروں کا فاصلہ صنعاء اور ایلہ کے مابین فاصلے کی طرح ہے۔ اس میں کوزے ستاروں جیسے لگتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 2305
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ " .
عامر بن سعد بن ابی وقاص نے کہا: میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو خط بھیجا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں۔ جو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے مجھے (جواب میں) لکھا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔”میں حوض پر (تمہارا) پیش رو ہوں گا۔“