حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لَهُ ، قالا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : نَادَى رَجُلٌ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بقیع میں ایک شخص نے دوسرے شخص کو یا ابالقاسم کہہ کر آواز دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس آواز پر) اس (آدمی) کی طرف متوجہ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا مقصود آپ کو پکارنا نہ تھا، میں نے تو فلاں کو آواز دی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر (اپنی) کنیت نہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ الْمُلَقَّبُ بسبلان ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَهُ مِنْهُمَا سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ يُحَدِّثَانِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " .
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ناموں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمان ہیں۔“
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ لِي قَوْمِي : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
منصور نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ہم (انصار) میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھا، اس کی قوم نے اس سے کہا: تم نے اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے، ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے، وہ شخص اپنے بیٹے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر (کندھے پر چڑھا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے، اس پر میری قوم نے کہا ہے: ہم تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر (اپنی) کنیت نہ رکھو۔ بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں (جو اللہ عطا کرتا ہے، اسے) تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، فَقُلْنَا : لَا نَكْنِكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَسْتَأْمِرَهُ ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ قَوْمِي أَبَوْا أَنْ يَكْنُونِي بِهِ حَتَّى تَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھا تو ہم نے کہا، ہم تیری کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی کنیت نہیں رکھیں گے، حتی کہ آپ سے مشورہ کر لیں تو وہ آپ کے پاس آیا اور عرض کی، میرا ایک بچہ پیدا ہوا ہے، تو میں نے اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے اور میری قوم نے اس کے نام پر میری کنیت رکھنے سے انکار کیا ہے، حتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لے تو آپ نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں، تمہارے درمیان (علم و مال) بانٹتا ہوں۔‘‘
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .
خالد طحان نے حسین سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور (میں قاسم (تقسیم کرنے والا) بنا کر بھیجا گیا ہوں، تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ وَلَا تَكْتَنُوا .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام کو رکھ لو، اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو ابو القاسم اس لیے ہوں کہ تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔" اور ابوبکر کی روایت میں ہے میری کنیت نہ رکھے۔‘‘
حدیث نمبر: 2133
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .
امام صاحب کو ایک اور استاد نے بتایا، آپﷺ نے فرمایا: ”میں تو قاسم ٹھہرایا گیا ہوں، تمہارے درمیان بانٹتا ہوں۔‘‘
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار نے اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت پر (اپنی) کنیت نہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كِلَاهُمَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَإِسْحاَقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا : سَمِعْنَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ مِنْ قَبْلُ ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ وَسُلَيْمَانُ ، قَالَ حُصَيْنٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " ، وقَالَ سُلَيْمَانُ : فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ .
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ، محمد بن عمرو بن جبلہ اور بشر بن خالد نے محمد بن جعفر سے، محمد بن جعفر، ابن ابی عدی اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ، منصور، سلیمان اور حسین بن عبدالرحمن سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے سالم بن ابی جعد سے سنا، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، جس طرح ان سب کی روایت ہے جن کی حدیث ہم پہلے بیان کر چکے ہیں شعبہ سے نضر کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہا: اس میں حسین اور سلیمان نے اضافہ کیا، حسین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔) اور سلیمان نے کہا: (میں ہی قاسم ہوں، تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔)
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَال عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْنَا : لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " .
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہمیں (محمد) بن منکدر نے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، اس شخص نے اس کا نام قاسم رکھا، ہم نے کہا: ہم تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے (تمہاری یہ خواہش پوری کر کے) تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کریں گے تو وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ لو۔“
حدیث نمبر: 2133
وحدثني أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا .
روح بن قاسم نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے یہ الفاظ نہیں کہے: (اور ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے۔)
حدیث نمبر: 2134
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " ، قَالَ عَمْرٌو : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔‘‘
حدیث نمبر: 2135
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال : لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ ، عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نجران میں آیا، تو وہاں کے (انصاری) لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ تم پڑھتے ہو کہ (آیت) (اے ہارون کی بہن) (مریم: 28) (یعنی مریم علیہا السلام کو ہارون کی بہن کہا ہے) حالانکہ (سیدنا ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور) موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے (پھر مریم ہارون علیہا السلام کی بہن کیونکر ہو سکتی ہیں؟)، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (یہ وہ ہارون تھوڑی ہیں جو موسیٰ کے بھائی تھے) بنی اسرائیل کی عادت تھی (جیسے اب سب کی عادت ہے) کہ وہ پیغمبروں اور اگلے نیکوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔