کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ ؟ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اال تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی، اے اللہ کے رسولﷺ! میری ایک بچی دلہن ہے، اسے چیچک نکلی، جس سے اس کے بال جھڑ گئے تو کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال ملا سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا .
عبداللہ بن نمیر، عبدہ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں (اس کے بال چھدرے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کہے۔
حدیث نمبر: 2122
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَنَهَاهَا " .
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قال : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ : " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
عمرو بن مرہ نے کہا: میں نے حسن بن مسلم سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی (دونوں) پر لعنت فرمائی۔
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا ، فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ " .
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی، کہا: مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تو اس کے بال جھڑ گئے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتا ہے، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگاؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 2123
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ”جوڑنے والی واصلات کی جگہ موصِلات ہے، پر لعنت کی گئی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ " .
عبیداللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑ لگانے والی، جوڑ لگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی۔
حدیث نمبر: 2124
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد نے اسی طرح سنائی ہے۔
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لإسحاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ ، وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ ، فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الْآنَ ، قَالَ : اذْهَبِي فَانْظُرِي ، قَالَ : فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا ، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، گودنے والی اور گدوانے کا مطالبہ یا خواہش کرنے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے کا مطالبہ کرنے والی اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والی، جو اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں، اللہ نے لعنت بھیجی ہے، یہ بات بنو اسد کی ایک عورت ام یعقوب نامی تک پہنچی، جو قرآن کی تلاوت کرتی رہتی تھی تو وہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی، وہ بات کیا ہے جو مجھے آپ کی طرف سے پہنچی ہے کہ آپ بدن گودنے والیوں، گدوانے والیوں، بال اکھڑوانے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانت کشادہ کروانے والیوں پر لعنت بھیجتے ہیں، جو اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں تو حضرت عبداللہ ؓ نے کہا، میں ان عورتوں پر لعنت کیوں نہ بھیجوں، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور اس کا ذکر اللہ کی کتاب میں موجود ہے تو عورت کہنے لگی، میں نے قرآن مکمل طور پر پڑھا ہے تو مجھے تو یہ ذکر نہیں ملا تو انہوں نے فرمایا، اگر تو، توجہ کے ساتھ پڑھتی تو تجھے یہ مل جاتا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”رسول تمہیں جو دیں لے لو اور جس سے تمہیں روک دیں اس سے رک جاؤ۔‘‘
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ ، وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ .
سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں: (گودنے والیاں اور گدوانے والیاں) ہے، جبکہ مفضل کی روایت میں (گودنے والیاں اور جن (کے جسم) پر گودا جاتا ہے) کے الفاظ ہیں۔ (مقصود ایک ہی ہے۔)
حدیث نمبر: 2125
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَرَّدًا عَنْ سَائِرِ الْقِصَّةِ مِنْ ذِكْرِ أُمِّ يَعْقُوبَ .
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، ام یعقوب رضی اللہ عنہا کے پورے واقعے کے بغیر ہی بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 2125
وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
امام صاحب بیان کرتے ہیں، ہمیں ایک اور استاد نے یہ حدیث سنائی۔
حدیث نمبر: 2126
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قالا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے ساتھ کسی چیز کو جوڑنے سے سرزنش فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ " .
حمید بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ جس سال حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا، منبر پر بالوں کا ایک گچھا پکڑ کر، جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھا، میں نے ان سے یہ کہتے سنا، اے اہل مدینہ، تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کے کام سے روکتے ہوئے سنا، آپﷺ نے فرمایا: ”بنو اسرائیل بس اس وقت ہلاک ہوئے، جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کاموں کو اپنا لیا۔‘‘
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ .
سفیان بن عیینہ، یونس اور معمر، ان سب نے زہری سے مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا مگر معمر کی حدیث میں: (بنی اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کر دیا گیا) کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قال : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا ، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ ، فَقَالَ : " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ " .
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مدینے آئے، ہمیں خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھہ نکال کر فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے علاوہ کوئی اور بھی ایسا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹ (فریب کاری) کا نام دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2127
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا : أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ ، قال : ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ " ، قَالَ : وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا وَهَذَا الزُّورُ ، قَالَ قَتَادَةُ : يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ .
قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی (لیر) تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سنو! یہ جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد وہ دھجیاں (لیریں) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں۔