حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ لِي : يَا أَنَسُ ، انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ ، قَالَ : فَغَدَوْتُ ، فَإِذَا هُوَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ جَوْنِيَةٌ ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ " .
محمد (ابن سیرین) نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا: انس! اس بچے کا دھیان رکھو، اس کے منہ میں کوئی چیز نہ جائے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ آپ اسے گھٹی دیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں صبح کے وقت آیا، اس وقت آپ باغ میں تھے، آپ کے جسم پر ایک کالے رنگ کی بنوجون کی بنائی ہوئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں (کے جسم) پر نشان ثبت فرما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں (فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے موقع پر) آپ کو حاصل ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ : أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ ، قَالَ : فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا .
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہ جب ان کی والدہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا: میرا غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) ان (بکریوں) کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے۔ (اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے۔)
حدیث نمبر: 2119
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول : " دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا ، قَالَ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ فِي آذَانِهَا " .
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ہشام بن زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے، اس وقت آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے (، شعبہ نے) کہا: میرا خیال ہے (ہشام نے) کہا: کہ ان (بکریوں) کے کانوں پر (نشان لگا رہے تھے۔)
حدیث نمبر: 2119
وحدثينيه يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَحْيَي ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ كلهم ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
خالد بن حارث محمد (ابن جعفر غندر) یحییٰ (بن سعید قطان) اور عبدالرحمان (بن مہدی) سب نے شعبہ سے، اسی سند سے، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " رَأَيْتُ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيسَمَ ، وَهُوَ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں داغ لگانے کا آلہ دیکھا اور آپﷺ صدقہ کے اونٹوں کو داغ لگا رہے تھے۔