حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب (بازار میں) ایک ریشمی حلہ (ایک جیسی ریشمی چادروں کا جوڑا بکتے ہوئے) دیکھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خرید لیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے (خطبہ دینے کے لیے) اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو (دنیا میں) صرف وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (بن حاجب بن زرارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے) کے حلے کے بارے میں جو فرمایا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔
حدیث نمبر: 2068
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 2068
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ ، قَالَ : وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً ، وَقَالَ : شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ، قَالَ : فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا " ، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا ، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد تیمی کو دیکھا، بازار میں ایک ریشمی دھاری دار جوڑا فروخت کر رہا ہے، وہ ایسا آدمی تھا، جو بادشاہوں کے پاس جاتا اور ان سے انعام پاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عطارد کو دیکھا ہے، وہ بازار میں ریشمی دھاری دار جوڑا فروخت کرنا چاہتا ہے، اے کاش! آپ اسے خرید لیں اور عربی وفود جب آپ کے پاس آئیں تو اسے پہن لیں اور میرے خیال میں یہ بھی کہا: جمعہ کے دن پہن لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا: ”اس کو دنیا میں صرف وہ لوگ پہنتے ہیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘ اس کے کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے جوڑے لائے گئے تو آپﷺ نے ایک جوڑا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا، ایک جوڑا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف بھیجا اور ایک جوڑا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو۔‘‘ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا جوڑا اٹھا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے یہ بھیج دیا ہے، حالانکہ آپ کل عطارد کے جوڑے کے بارے میں جو فرما چکے ہیں، آپ کو معلوم ہے تو آپﷺ نے فرمایا: ”میں نے یہ تجھے اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ اسے پہن لو، لیکن میں نے تو اس لیے بھیجا کہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔‘‘ رہے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو وہ اپنا جوڑا پہن کر چل پڑے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نظر سے دیکھا کہ وہ سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرکت کو برا محسوس کیا ہے تو عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کس نظر سے دیکھ رہے ہیں، آپ ہی نے تو مجھے یہ بھیجا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیری طرف اس لیے نہیں بھیجا کہ تو اسے پہن لے، بلکہ میں نے تو تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تو اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں کے لیے دوپٹے بنا، ان میں تقسیم کر دے۔‘‘
حدیث نمبر: 2068
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال : وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، قَالَ : فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق (موٹے ریشم) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا ہوا دیکھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے خرید لیجیے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ کہا: پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا (لفظی ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا: ”یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ یا آپ نے (اس طرح) فرمایا تھا: ”اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس لیے کہ) تم اس کو فروخت کر دو اور اس (کی قیمت) سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔“
حدیث نمبر: 2068
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوِ اشْتَرَيْتَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ ، قَالَ : قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ، قَالَ : " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا " .
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ابوبکر بن حفص نے سالم سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی (کے کندھوں) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا: ”اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر (بعد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا، کہا: میں نے عرض کی: آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سو فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“
حدیث نمبر: 2068
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا .
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوبکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک آدمی (کے کندھوں) پر (بیچنے کے لیے ایک حلہ) دیکھا، جس طرح یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم (خود) اسے پہنو۔“
حدیث نمبر: 2068
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، قال : حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : قَالَ لِي : سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول : رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا .
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی، کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا، کہا: میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص (کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا، وہ اس (حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ جبہ اس لیے تمہارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے (اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کر لو۔“
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ ، قال : أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " ، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا ، فَقَالَتْ : هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ : هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، حَتَّى قُبِضَتْ ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا .
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ (کیسان) سے روایت ہے، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں، دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے)۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”حریر (ریشم) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر (ریشم) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ (جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لیے پلاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ، يقول : أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: سنو! اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (یہ حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ ، قَالَ : إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قَالَ عَاصِمٌ : هَذَا فِي الْكِتَابِ ، قَالَ : وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ .
احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عاصم احول نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی، کہا: جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف (خط میں) لکھ بھیجا: عتبہ بن فرقد! تمہارے پاس جو مال ہے وہ نہ تمہاری کمائی سے ہے، نہ تمہارے ماں باپ کی کمائی سے، مسلمانوں کو ان کی رہائش گاہوں میں وہی کھانا پیٹ بھر کے کھلاؤ جس سے اپنی رہائش گاہ میں تم خود پیٹ بھرتے ہو اور تم لوگ عیش و عشرت سے مشرکین کے لباس اور ریشم کے پہناوؤں سے دور رہنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، مگر اتنا (جائز ہے)، (یہ فرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں، درمیانی انگلی اور انگشت شہادت ملائیں اور انہیں ہمارے سامنے بلند فرمایا۔ زہیر نے کہا: عاصم نے کہا: یہ اس خط میں ہے، (ابن یونس نے) کہا: اور زہیر نے (بھی) اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔
حدیث نمبر: 2069
حدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَرِيرِ بِمِثْلِهِ .
جریر بن عبدالحمید اور حفص بن غیاث دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ریشم کے بارے میں اس طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 2069
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهُوَ عُثْمَانُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال : كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا " ، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ : بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ ، فَرُئِيتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ .
جریر نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی، کہا: ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم (کا لباس) اس کے سوا کوئی شخص نہیں پہنتا جس کا آخرت میں اس میں سے کوئی حصہ نہ ہو، سوائے اتنے (ریشم) کے (اتنی مقدار جائز ہے)۔“ ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ کی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ جیسے وہ طیلسان (نشانات والی عبا) کے بٹنوں والی جگہ (کے برابر) ہو، یہاں تک کہ میں نے (اصل) طیلسان دیکھے، (وہ اتنی مقدار ہی تھی۔)
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قال : كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوعثمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جریر کی حدیث کے مانند۔
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ " ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ : فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ .
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا، کہا: ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا، اس وقت ہم آذربائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے۔ ابوعثمان نے کہا: ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کہ ان کی مراد نقش و نگار سے ہے (جو کناروں پر ہوتے ہیں۔)
حدیث نمبر: 2069
وحدثنا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ .
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابوعثمان کا قول ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ " .
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے عامر شعبی سے روایت کی، انہوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں (کی پٹی) کے۔
حدیث نمبر: 2069
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، ويحيى بن حبيب ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لابن حبيب ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ : قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ " ، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ " ، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ .
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت بیان کرتے ہیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیباج کی قبا پہنی، جو آپﷺ کو تحفتا دی گئی تھی، پھر آپ نے اسے جلدی کھینچ ڈالا اور اسے حضرت عمر بن خطاب کی طرف بھیج دیا، آپﷺ سے عرض کیا گیا، اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے اسے فورا ہی اتار ڈالا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا ہے‘‘ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ روتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ! ایک چیز آپﷺ نے ناپسند فرمائی ہے اور وہ مجھے عطا کر دی ہے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”میں نے وہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، صرف اس لیے دی ہے کہ تم اسے بیچ لو۔‘‘ تو انہوں نے وہ دو ہزار درہم میں فروخت کردی۔
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا ، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ " .
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنا رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اس کو پہن لیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“
حدیث نمبر: 2071
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَر ، فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرَنِي .
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، معاذ کی روایت میں ہے، آپﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا اور محمد بن جعفر کی روایت میں ہے، میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا، اس میں حکم دینے کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2071
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ حَرِيرٍ ، فَأَعْطَاهُ عَلِيًّا ، فَقَالَ : " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ بَيْنَ النِّسْوَةِ .
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، دومہ علاقہ کے رئیس اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کپڑا تحفتا بھیجا، آپ نے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دیا اور فرمایا: ”اسے فاطمات میں دوپٹے بنا کر تقسیم کر دو۔‘‘
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، " فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي " .
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا، میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ دیکھا، کہا: پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 2072
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا ، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سُندس (باریک ریشم) کا ایک جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے حالانکہ آپ نے اس کے متعلق (پہلے) جو فرمایا تھا وہ فرما چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ۔“
حدیث نمبر: 2073
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“
حدیث نمبر: 2074
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“
حدیث نمبر: 2075
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " .
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک کھلی قبا ہدیہ میں دی گئی، آپ نے وہ پہنی اور نماز پڑھی، پھر اس کو کھینچ کر اتار دیا، جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر فرمایا: ”یہ (عبا) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 2075
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔