حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى ، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ ، فَقَالَتْ : أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا ، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ : وَمِنَ السَّنَامِ ؟ ، قَالَ : قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عَلِيٌّ : فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي ، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ " .
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غنیمت سے ایک عمر رسیدہ اونٹنی ملی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور عمر رسیدہ اونٹنی دے دی، تو ایک دن میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے دروازہ پر بیٹھا اور میں چاہتا تھا کہ ان دونوں پر بیچنے کے لیے اذخر لاؤں اور میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک زرگر بھی تھا، میں اس رقم سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی پر ولیمہ کی تیاری میں مدد حاصل کرنا چاہتا تھا اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں شراب پی رہے تھے، ان کے پاس ایک گانے والی گا رہی تھی، اس نے کہا، خبردار! اے حمزہ، فربہ عمر رسیدہ اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لیے اٹھو، تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار لے کر ان دونوں کی طرف کودے اور ان دونوں کے کوہان کاٹ لیے اور دونوں کے کوکھ چاک کر ڈالے، پھر ان کے جگر نکال لیے، ابن جریج کہتے ہیں، میں نے ابن شہاب سے کہا اور کوہان سے؟ انہوں نے کہا، دونوں کے کوہان کاٹ کر لے گئے، ابن شہاب نے کہا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، تو میں نے ایسا منظر دیکھا، جس نے مجھ دکھ پہنچایا، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پاس تھے، میں نے آپ کو واقعہ سے آگاہ کیا، تو آپ چل پڑے، حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا، آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے، اس پر ناراض ہوئے، تو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی نظر اوپر اٹھا کر کہا، تم میرے بزرگوں کے غلام ہی تو ہو؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹے اور گھر سے نکل گئے۔
حدیث نمبر: 1979
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عبدالرزاق نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 1979
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ ، فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ ، فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي ، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ ، فَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا ، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا ، قُلْتُ : مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ ، قَالُوا : فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا : أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ ؟ ، فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ، فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، قَالَ : فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ ؟ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَهُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ ، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ ، فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ ، فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ ، فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ حَمْزَةُ : وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي ، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ ، فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ " .
عبداللہ بن وہب نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے علی بن حسین بن علی نے بتایا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لیے گئے۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں (یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمہ الزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی، اس خیال سے تھا)۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لیے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر (کلیجہ) نکال لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا، ان کے کوہان کاٹ لیے، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ لوگوں نے اجازت دی۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں (نشے کی وجہ سے) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور (نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔
حدیث نمبر: 1979
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ ، وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي ، فَقَالَ : اخْرُجْ فَانْظُرْ ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا ، فَقَالُوا أَوَ قَالَ بَعْضُهُمْ : قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ " ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور ان کی شراب صرف فضیخ یعنی گدری کھجور اور چھوہارے کا آمیزہ تھی، تو اچانک ایک منادی کرنے والے نے آواز بلند کی، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، نکل کر دیکھو، (کیا آواز ہے) میں نے نکل کر دیکھا، ایک اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے، خبردار شراب حرام ہو چکی ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، وہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، مجھے بھی ابوطلحہ ؓ نے کہا، باہر نکل کر اس کو بہا دو، میں نے اسے بہا دیا، لوگوں نے یا بعض نے کہا، فلاں لوگ قتل کئے گئے، جبکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی، راوی کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، یہ بات حضرت انس کی حدیث میں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، ”جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے، انہیں گناہ نہیں ہو گا، جو وہ حرمت شراب سے پہلے پی چکے ہیں، جبکہ وہ تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کی روش پر قائم ہوں۔‘‘
حدیث نمبر: 1980
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ ، فَقَالَ : مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ ؟ قُلْنَا : لَا قَالَ : فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ يَا أَنَسُ : أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ ، قَالَ : فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ " .
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہوئی کھجوروں کا رس جس میں خمیر اٹھ جائے) کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کوئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابوطلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تمہیں خبر پہنچی؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: انس! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی) کچھ پوچھا۔
حدیث نمبر: 1980
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، فَقَالُوا : اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنِي ، رَجُلٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذَلِكَ أَيْضًا .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں خاندان کے لوگوں کو اپنے چچوں کو کھڑا، ان کی فضیخ پلا رہا تھا، کیونکہ میں سب سے کم عمر تھا، کہ ایک آدمی آ کر کہنے لگا، واقعہ یہ ہے کہ خمر حرام کر دی گئی ہے، تو انہوں نے کہا، اس کو الٹ دو، اے انس! تو میں نے اسے الٹا دیا، سلیمان تیمی کہتے ہیں، میں نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، فضیخ کیا ہے؟ انہوں نے کہا، کچی پکی اور تازہ کھجوروں کا آمیزہ، حضرت ابوبکر بن انس نے بتایا، ان دنوں ان کا خمر یہی تھا، سلیمان کہتے ہیں، مجھے ایک آدمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی قول نقل کیا (ابوبکر والا)
حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ ، وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہوا قبیلے (کے لوگوں) کو شراب پلا رہا تھا، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انہوں نے (معتمر) نے کہا: ابوبکر بن انس نے بتایا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ (خود بھی) موجود تھے اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا۔ (سلیمان نے کہا:) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا: اس نے (خود) انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی۔
حدیث نمبر: 1980
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَأَبَا دُجَانَةَ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ ، فَقَالَ : حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، قَالَ قَتَادَةُ : وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ " .
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں انصاری کی ایک جماعت میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا: شراب کی حرمت نازل ہو گئی ہے، (یہ سنتے ہی) ہم نے اسی دن اسے (شراب کو) بہا دیا، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی (بنی ہوئی) شراب تھی۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: شراب حرام کر دی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی، نیم پختہ اور خشک کھجور کی (بنی ہوئی) ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1980
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّار ٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَأَبَا دُجَانَةَ ، وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاء مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ .
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابوطلحہ، حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو ایک مشکیزے سے شراب پلا رہا تھا، ملی جلی نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی شراب تھی، جس طرح سعید (بن ابی عروبہ) کی حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 1981
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ ثُمَّ يُشْرَبَ ، وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ " .
عمرو بن حارث نے کہا کہ قتادہ بن دعامہ نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کچی اور نیم پختہ کھجوروں کا خلیط (پانی ملا رس) بنایا جائے، پھر (اس میں خمیر اٹھنے کے بعد) اسے پیا جائے اور جس دن شراب حرام ہوئی اس زمانے میں ان کی عام شراب یہی ہوا کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 1980
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَأَبَا طَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ : قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا ، فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں ابو عبیدہ بن جراح، ابو طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فضیخ اور تمر کی شراب پلا رہا تھا، تو ان کے پاس ایک آنے والا آ کر کہنے لگا، شراب (خمر) حرام قرار دے دی گئی ہے، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اے انس! اٹھو اور اس مٹکہ کو توڑ دو، میں نے اٹھ کر اپنا ایک تراشیدہ پتھر اٹھایا اور اسے گھڑے کے نچلے حصہ میں مارا، حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 1982
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " لَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فِيهَا الْخَمْرَ ، وَمَا بِالْمَدِينَةِ شَرَابٌ يُشْرَبُ إِلَّا مِنْ تَمْرٍ " .
عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اس نے شراب کو حرام کیا تو اس وقت مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور (کسی چیز کی بنی ہوئی) شراب نہیں پی جاتی تھی۔