حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ ، فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَكُلْ " ، قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلْنَ ، قَالَ : " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا " ، قُلْتُ لَهُ : فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ ، فَقَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ " .
ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں۔ وہ میرے لیے شکار کو قابوکر لیتے ہیں۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں (بسم اللہ پڑھتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھا لو۔“ میں نے کہا: خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ وہ شکار کو مار ڈالیں، جب تک کوئی اور کتا، جو ان کے ساتھ نہیں (بھیجا گیا)، ان کے ساتھ شریک نہ ہو جائے۔“ میں نے عرض کی: میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشانہ بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے (خون نکل جائے) تو اس کو کھا لو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مار ڈالے تو مت کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ ، فَقَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ ، فَإِنْ أَكَلَ ، فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ " .
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، ہم ایسے لوگ ہیں جو ان (سدھائے ہوئے) کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے (شکار پر) چھوڑو اور ان پر اللہ کا نام لو (بسم اللہ پڑھو) تو جو تمہارے لیے روک لیں (خود نہ کھائیں) کھا لو، اگرچہ وہ اسے قتل ہی کر ڈالیں، الا یہ کہ کتا کھا لے، اگر وہ کھا لے تو تم نہ کھاؤ، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے، اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے اور اگر ان کے ساتھ اور کتے مل جائیں تو نہ کھاؤ۔‘‘
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ، فَقَالَ : " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ " ، وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ ، فَقَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ، فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ " ، قُلْتُ : فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ ، قَالَ : " فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابن ابی سفر سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ”جب اس نے اپنے (چھیدنے والے) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہو تو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر مار دیا ہو تو وہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا (شکار) ہے، اسے نہ کھاؤ۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے (شکار پر) اپنا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو، اگر کتے نے اس (شکار) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ، کیونکہ کتے نے اس (شکار) کو اپنے لیے پکڑا ہے۔“ میں نے کہا: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پھر تم نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔“
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، يَقُولُ ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ذَكَرَ شُعْبَةُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ .
غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے، انہوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا، شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا، پھر اسی کے مانند بیان کیا۔
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ، فَقَالَ : " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ " ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ ، فَقَالَ : " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ ، فَلَا تَأْكُلْ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ " .
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں زکریا نے عامر (شعبی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے، تو وہ وقیذ ہے (یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے) اس کو مت کھا۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا۔“ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔“
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
عیسیٰ بن یونس نے کہا: ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُرْسِلُ كَلْبِي ، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ ، قَالَ : " فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
سعید بن مسروق نے کہا: شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نہرین (کے قصبے) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے والے قریبی ساتھی تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا بھی دیکھتا ہوں کہ اس نے اس کو شکار کر لیا ہے۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ (اصل میں) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تم (اس کو) مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں پڑھی۔“
حدیث نمبر: 1929
وحَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ .
حکم نے شعبی سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَال : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ ، فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ " .
علی بن مسہر نے عاصم سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا (شکار پر) چھوڑو تو بسم اللہ پڑھو، اور اگر وہ تمہارے لیے شکار کو جکڑ لے اور تم اس (شکار) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کر دو، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو تو اس کو بھی کھا لو، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو، تو اس کو نہ کھاؤ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو، پھر اگر ایک دن تک وہ (شکار) تمہیں نہ ملے (بعد میں ملے) اور تمہیں اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھا لو، اور اگر وہ تمہیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ۔“
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ " .
عبداللہ بن مبارک نے کہا: ہمیں عاصم نے شعبی سے خبر دی، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا (شکاری) کتا چھوڑے، تو اللہ کا نام لے (کر چھوڑ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار (تیر کھا کر) ایک دن تک غائب رہے، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تمہارے تیر سے۔“
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا ، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ " .
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا، اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین میں ہیں، جہاں اہل کتاب رہتے ہیں، ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور شکاری زمین ہے، میں اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرتا ہوں اور اپنے ایسے کتے سے شکار کرتا ہوں، جو سدھایا ہوا نہیں، تو مجھے بتائیے اس میں سے کون سی چیز ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا:”تم نے جو یہ بیان کیا ہے کہ تم ایک اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہو، ان کے برتنوں میں کھاتے ہو، تو اگر ان کے برتنوں کے علاوہ میسر ہوں تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر نہ ملیں تو ان کو دھو لو، پھر ان میں کھا لو اور جو تم نے یہ بیان کیا ہے کہ تم شکار والی زمین میں ہو، تو جو شکار اپنی کمان سے اللہ کا نام لے کر کرو، تو کھا لو اور جو شکار اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کرو، تو اس پر اللہ کا نام لو پھر کھا لو اور جو اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کرو اور اسے ذبح کر سکو، تو کھا لو۔‘‘
حدیث نمبر: 1930
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ كِلَاهُمَا ، عَنْ حَيْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ .
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں کیا۔