حدیث نمبر: 1905
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ : أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ " ،
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بکھر گئے تو ایک شامی سر برآوردہ یا ناتل نامی شخص نے ان سے کہا، اے شیخ! ہمیں وہ حدیث سنائیے، جو آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، انہوں نے کہا، ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”سب سے پہلے قیامت کے دن جس کے خلاف فیصلہ ہو گا، وہ ایک شہید ہونے والا آدمی ہے، اسے لایا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں اسے بتائے گا اور وہ ان کا اقرار کرے گا، اللہ تعالی پوچھے گا، تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا (کن مقاصد کے لیے ان کو استعمال کیا) ہے وہ کہے گا، میں نے تیری خاطر جہاد کیا، حتیٰ کہ مجھے شہید کر دیا گیا، اللہ فرمائے گا، تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے تو صرف اس لیے جہاد میں حصہ لیا، تاکہ تیری جراءت کے چرچے ہوں، تو یہ چرچے ہو گئے، پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا اور اسے اوندھے منہ گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے اور ایک آدمی نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن کی قراءت کرتا رہا، اسے بھی لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتوں کی شناخت کروائے گا اور وہ ان کی شناخت کر لے گا، اللہ اس سے پوچھے گا، تو نے ان سے کیا کام لیا؟ (ان کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا) وہ کہے گا، میں نے علم سیکھا اور اسے سکھایا اور تیری خاطر قرآن کی قراءت کی، اللہ فرمائے گا، تو جھوٹ کہتا ہے تو نے تو علم اس لیے حاصل کیا، تاکہ تجھے عالم کہا جائے گا اور تو نے قرآن پڑھا، تاکہ تجھے قاری کہا جائے گا، تو تیرا یہ مقصد حاصل ہو چکا، (تیرے عالم اور قاری ہونے کا خوب چرچا ہوا) پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ایک تیسرا آدمی ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ نے بھرپور دولت سے نوازا ہو گا اور اسے ہر قسم کا مال عنایت کیا ہو گا، اسے بھی لایا جائے گا اور اللہ اسے اپنی نعمتوں سے آگاہ فرمائے گا اور وہ ان کا اعتراف کر لے گا، اللہ تعالیٰ پوچھے گا، تو نے ان سے کیا کام لیا؟ وہ کہے گا، میں نے کوئی ایسا راستہ نہیں چھوڑا، جہاں تجھے خرچ کرنا پسند تھا، مگر تیری رضا کے حصول کی خاطر میں نے وہاں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تو نے جھوٹ کہا، درحقیقت تو نے یہ سب کچھ اس لیے کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے، (تیری فیاضی اور داد و دہش کے چرچے ہوں) سو تیرا یہ مقصد تجھے حاصل ہو گیا، (دنیا میں تیری سخاوت اور داد و دہش کے خوب چرچے ہوئے) پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘
حدیث نمبر: 1905
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ : ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ .
مصنف یہی روایت اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔