کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: حاکم کو دونوں فریق میں صلح کرا دینا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 1721
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ : خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ ، فَقَالَ الَّذِي شَرَى الْأَرْضَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا ، قَالَ : فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : لِي غُلَامٌ ، وَقَالَ الْآخَرُ : لِي جَارِيَةٌ ، قَالَ : أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں یہ بھی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے اس کی زمین خریدی تو اس آدمی کو، جس نے زمین خریدی تھی، اپنی زمین میں ایک گھڑا ملا جس میں سونا تھا۔ جس نے زمین خریدی تھی، اس نے اس (بیچنے والے) سے کہا: اپنا سونا مجھ سے لے لو، میں نے تم سے زمین خریدی تھی، سونا نہیں خریدا تھا۔ اس پر زمین بیچنے والے نے کہا: میں نے تو زمین اور اس میں جو کچھ تھا تمہیں بیچ دیا تھا۔ کہا: وہ دونوں جھگڑا لے کر ایک شخص کے پاس گئے، تو جس کے پاس وہ جھگڑا لے کر گئے تھے اس نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میری ایک لڑکی ہے۔ تو اس نے کہا: (اس سونے کے ذریعے سے) لڑکے کا لڑکی سے نکاح کر دو اور اس میں سے اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الأقضية / حدیث: 1721
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»