کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: قسامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ يَحْيَى : وَحَسِبْتُ ، قَالَ : وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا ، قَالَا : " خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ فِي السِّنِّ ، فَصَمَتَ فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ ، قَالُوا : وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ ؟ ، قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ، قَالُوا : وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ " .
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے بشیر بن یسار سے اور انہوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید (مدینہ سے) نکلے یہاں تک کہ جب خیبر میں پہنچے تو وہاں کسی جگہ الگ الگ ہو گئے، پھر (یہ ہوتا ہے کہ) اچانک محیصہ، عبداللہ بن سہل کو مقتول پاتے ہیں۔ انہوں نے اسے دفن کیا، پھر وہ خود، حویصہ بن مسعود اور (مقتول کا حقیقی بھائی) عبدالرحمان بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ (عبدالرحمان) سب سے کم عمر تھا، چنانچہ عبدالرحمان اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بڑے کو اس کا مقام دو،“ یعنی عمر میں بڑے کو، تو وہ خاموش ہو گیا، اس کے دونوں ساتھیوں نے بات کی اور ان کے ساتھ اس نے بھی بات کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن سہل کے قتل کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے، پھر اپنے ساتھی (کے بدلے خون بہا)۔۔ یا (فرمایا:) بدلے میں اپنے قاتل (سے دیت یا قصاص لینے)۔۔ کے حقدار بنو گے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہم قسمیں کیسے کھائیں جبکہ ہم نے دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تمہیں (ان کے خلاف تمہارے مطالبے کے حق سے) الگ کر دیں گے۔“ انہوں نے کہا: ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیونکر قبول کریں؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی آپ نے (اپنی طرف سے) اس کی دیت ادا کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ " أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَبِّرِ الْكُبْرَ ، أَوَ قَالَ : لِيَبْدَأْ الْأَكْبَرُ ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ ، قَالُوا : أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ ؟ ، قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ ، قَالَ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ ، قَالَ سَهْلٌ : فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا ، فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا ، قَالَ : حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ،
حماد بن زید نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے بشیر بن یسار سے، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج سے روایت کی کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور (وہاں) کسی نخلستان میں الگ الگ ہو گئے، عبداللہ بن سہل کو قتل کر دیا گیا تو ان لوگوں نے یہود پر الزام عائد کیا، چنانچہ ان کے بھائی عبدالرحمان اور دو حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمان نے اپنے بھائی کے معاملے میں بات کی، وہ ان سب میں کم عمر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے کو بڑا بناؤ“ یا فرمایا: ”سب سے بڑا (بات کا) آغاز کرے۔“ ان دونوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے ایک آدمی پر قسمیں کھائیں گے تو وہ اپنی رسی سمیت (جس میں وہ بندھا ہو گا) تمہارے حوالہ کر دیا جائے گا؟“ انہوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جو ہم نے دیکھا نہیں، ہم کیسے حلف اٹھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے تم کو (تمہارے دعوے کے استحقاق سے) الگ کر دیں گے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (وہ تو) کافر لوگ ہیں۔ کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی۔ سہل نے کہا: ایک دن میں ان کے باڑے میں گیا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ حماد نے کہا: یہ یا اس کی طرح (بات کہی۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
وحَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ " فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ " ،
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے بشیر بن یسار سے، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی، اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت دے دی اور انہوں نے اپنی حدیث میں یہ نہیں کہا: مجھے ایک اونٹنی نے لات مار دی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ جَمِيعًا ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
سفیان بن عیینہ اور عبدالوہاب ثقفی نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے بشیر بن یسار سے اور انہوں نے سہل بن ابی حثمہ سے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا يَهُودُ ، فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَوُجِدَ فِي شَرَبَةٍ مَقْتُولًا فَدَفَنَهُ صَاحِبُهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَشَى أَخُو الْمَقْتُولِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةُ ، وَحُوَيِّصَةُ ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَحَيْثُ قُتِلَ ، فَزَعَمَ بُشَيْرٌ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ : تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَهِدْنَا وَلَا حَضَرْنَا ، فَزَعَمَ ، أَنَّهُ قَالَ : فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ ، فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ ،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے بشیر بن یسار سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عبداللہ بن سہل بن زید انصاری اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری، جن کا تعلق قبیلہ بنو حارثہ سے تھا، خیبر کی طرف نکلے، ان دنوں وہاں صلح تھی، اور وہاں کے باشندے یہودی تھے، تو وہ دونوں اپنی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ ہو گئے، بعد ازاں عبداللہ بن سہل قتل ہو گئے اور کھجور کے تنے کے ارد گرد بنائے گئے پانی کے ایک گڑھے میں مقتول حالت میں ملے، ان کے ساتھی نے انہیں دفن کیا، پھر مدینہ آئے اور مقتول کے بھائی عبدالرحمان بن سہل اور (چچا زاد) محیصہ اور حویصہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ اور ان کو قتل کیے جانے کی صورت حال اور جگہ بتائی۔ بشیر کا خیال ہے اور وہ ان لوگوں سے حدیث بیان کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پایا کہ آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے (ساتھی سے بدلہ/دیت) کے حق دار بنو گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا، نہ وہاں موجود تھے۔ ان (بشیر) کا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تمہیں (اپنے دعوے کے استحقاق سے) الگ کر دیں گے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟ بشیر کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرما دی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ ، انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ مُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى قَوْلِهِ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ بِالْمِرْبَدِ ،
ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے بشیر بن یسار سے روایت کی کہ انصار میں سے بنو حارثہ کا ایک آدمی جسے عبداللہ بن سہل بن زید کہا جاتا تھا اور اس کا چچا زاد بھائی جسے محیصہ بن مسعود بن زید کہا جاتا تھا، سفر پر روانہ ہوئے، اور انہوں نے اس قول تک، لیث کی (حدیث: 4342) کی طرح حدیث بیان کی: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرما دی۔“ یحییٰ نے کہا: مجھے بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سہل بن ابی حثمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: دیت کی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے باڑے میں لات ماری تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا ، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " .
سعید بن عبید نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں بشیر بن یسار انصاری نے سہل بن ابی حثمہ انصاری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ان کو بتایا کہ ان (کے خاندان) میں سے چند لوگ خیبر کی طرف نکلے اور وہاں الگ الگ ہو گئے، بعد ازاں انہوں نے اپنے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا پایا۔۔ اور انہوں نے (پوری) حدیث بیان کی اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اس کے خون کو رائیگاں قرار دیں، چنانچہ آپ نے صدقے کے اونٹوں سے سو اونٹ اس کی دیت ادا فرما دی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1669
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، " أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي عَيْنٍ أَوْ فَقِيرٍ ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : كَبِّرْ كَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ ، فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ، قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ ، فَوَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ ، فَقَالَ سَهْلٌ : " فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ " .
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ تعالی عنہما دونوں خیبر گئے، کیونکہ وہ مشقت و تنگی معاش میں گرفتار تھے، محیصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر بتایا، کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ تعالی عنہ قتل کر کے ایک چشمہ یا گڑھا میں پھینک دئیے گئے ہیں، (اس سے پہلے) وہ یہود کے پاس آ کر یہ کہہ چکے تھے کہ تم نے اللہ کی قسم! اسے قتل کیا ہے، (کیونکہ ان کے علاقہ میں قتل ہوئے تھے) انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا ہے، پھر محیصہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں واقعہ بتایا، پھر وہ اور اس کا بھائی حویصہ جو اس سے بڑا تھا، اور عبدالرحمٰن بن سہل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، محیصہ رضی اللہ تعالی عنہ بات کرنے لگا، کیونکہ وہی خیبر میں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں اور یا وہ جنگ کے لیے اعلان سن لیں۔‘‘ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط لکھا تو انہوں نے جواب لکھا، ہم نے، اللہ کی قسم! اسے قتل نہیں کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے کہا، ”کیا تم قسمیں اٹھا کر، اپنے فرد کے خون کے حقدار بننا چاہتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا، ہم قسموں کے لیے تیار نہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”تو تمہارے سامنے یہود قسمیں اٹھائیں۔‘‘ انہوں نے کہا، وہ تو مسلمان نہیں ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس سو (100) اونٹنیاں بھیجیں، جو ان کے احاطہ میں داخل کر دی گئیں، حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1670
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ، وقَالَ حَرْمَلَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى ميمونة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ " ،
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار نے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی صورت پر برقرار رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1670
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1670
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ " ،
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے، آپﷺ نے قسامہ کا فیصلہ انصار کے ایک مقتول کے بارے میں کیا، جس کا انہوں نے یہود کے خلاف دعویٰ کیا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1670
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1670
وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَاهُ ، عَنْ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ .
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان اور سلیمان بن یسار نے انصار کے کچھ لوگوں سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جس طرح ابن جریج کی حدیث ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات / حدیث: 1670
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»