حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ ، قَالَ : بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ ، قُلْتُ : لَا ، ثُمَّ قَالَ : بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي ، فَقَالَ : أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ ، خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ " ،
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے عامر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اسے چھوڑ دیں، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ کر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا کی اور اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی تو وہ اس طرح چلنے لگا جس طرح (پہلے) کبھی نہ چلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اسے میرے پاس فروخت کر دو۔“ تو میں نے اسے ایک اوقیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فروخت کر دیا اور اپنے گھر تک اس پر سواری کرنے کو مستثنیٰ کر لیا۔ جب میں (مدینہ) پہنچا (تو) اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی نقد قیمت ادا فرما دی، پھر میں واپس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے پیغام بھیجا اور فرمایا: ”کیا تم میرے بارے میں سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا اونٹ لینے کے لیے تم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی، وہ (سب) تمہارا ہے۔“
حدیث نمبر: 715
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں زکریا سے خبر دی، انہوں نے عامر (شعبی) رحمہ اللہ سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی۔۔ ابن نمیر کی حدیث کی طرح۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : مَا لِبَعِيرِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَلِيلٌ ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ ، قَالَ : أَفَتَبِيعُنِيهِ ؟ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي عَرُوسٌ ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي ، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ : وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ : مَا تَزَوَّجْتَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ ، فَقُلْتُ لَهُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ، قَالَ : أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا ؟ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ ، فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ " ،
مغیرہ نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ لڑا، آپ پیچھے سے آ کر مجھے ملے جبکہ میں اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر تھا جو تھک چکا تھا اور چل نہ پاتا تھا۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کی: بیمار ہے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہوئے، اسے دوڑایا اور اس کے لیے دعا کی۔ اس کے بعد وہ مسلسل سب اونٹوں سے آگے چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنے اونٹ کو کیسا پا رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: بہت بہتر ہے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھے وہ فروخت کرو گے؟“ اس پر میں نے حیاء محسوس کی (کہ ایسا اونٹ جسے میں راہ ہی میں چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا تھا اور جو محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ٹھیک ہوا، اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیمت لوں۔) اور ہمارے پاس اس کے سوا پانی لانے والا اور اونٹ بھی نہ تھا (اس لیے بھی میں تردد کا شکار ہوا۔) کہا: پھر میں نے عرض کی: جی ہاں، چنانچہ میں نے آپ کو وہ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس کی پشت کی ہڈی (پر سواری) میری ہو گی۔ کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نیا نیا دلہا ہوں، میں نے آپ سے (تیزی سے گھر جانے کی) اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں لوگوں سے آگے مدینہ کی طرف چل پڑا حتیٰ کہ میں پہنچ گیا، مجھے میرے ماموں نے ملے اور انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا، میں نے جو کیا تھا انہیں بتا دیا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ کہا: جب میں نے (گھر جانے کی) اجازت مانگی تھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تھا: ”تم نے کس سے شادی کی: باکرہ سے یا دوہاجو سے؟“ میں نے عرض کی: میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے باکرہ سے کیوں شادی نہ کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد فوت۔۔ یا شہید۔۔ ہو گئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس انہی جیسی (کم عمر) لے آؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کی نگہداشت کر پائے، اس لیے میں نے دوہاجو عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، (تو) میں صبح کے وقت آپ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی اور وہ (اونٹ) بھی مجھے واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : لَا بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا بَلْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا ، قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهُ ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ : فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ ،
سالم بن ابی جعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ (کی جانب) سے مدینہ آئے، تو میرا اونٹ بیمار ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے (ان سے) مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ (ویسے ہی) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ میں نے کہا: ایک آدمی کا میرے ذمے سونے کا ایک اوقیہ (تقریبا 29 گرام) ہے، اس کے عوض یہ آپ کا ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے لے لیا، تم اس پر مدینہ تک پہنچ جاؤ۔“ کہا: جب میں مدینہ پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں ایک اوقیہ سونا اور کچھ زیادہ بھی دو۔“ کہا: انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زائد دیا۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زائد عطیہ مجھ سے کبھی الگ نہ ہو گا۔ کہا: تو وہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ حرہ کی جنگ کے دن اہل شام نے اسے (مجھ سے) چھین لیا۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ : فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " وَزَادَ أَيْضًا قَالَ : فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ : " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " .
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو میرا پانی ڈھونے والا اونٹ پیچھے رہ گیا، اور مذکورہ بالا روایت بیان کی، اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچوکا لگایا، پھر مجھے فرمایا، "بسم اللہ پڑھ کر اس پر سوار ہو جا،" اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے، آپ مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے رہے، اور فرماتے: "اللہ تمہیں معاف فرمائے۔"
حدیث نمبر: 715
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي ، قَالَ : فَنَخَسَهُ ، فَوَثَبَ فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِعْنِيهِ ، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ ، قَالَ : قُلْتُ : عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي " ،
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا، تو وہ اچھل پڑا، اس کے بعد میں اس کی نکیل کھینچتا تھا تاکہ میں آپﷺ کی بات سن سکوں، لیکن وہ میرے قابو نہیں آتا تھا یا اس کی تیز سے بات سن نہیں سکتا تھا، تو مجھ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے، اور فرمایا، ”اسے مجھے بیچ دو۔‘‘ تو میں نے اسے آپﷺ کو پانچ اوقیہ میں بیچ دیا، اور میں نے کہا، اس شرط پر کہ مدینہ تک اس پر میں سوار ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔‘‘ تو جب میں مدینہ پہنچا، اسے لے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپﷺ نے مجھے ایک اوقیہ زیادہ دیا، پھر وہ اونٹ بھی مجھے ہبہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ ، قَالَ : غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میں آپﷺ کے کسی سفر میں آپﷺ کے ساتھ شریک تھا، راوی کا خیال ہے، وہ جنگی سفر تھا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپﷺ نے فرمایا، ”اے جابر، کیا تو نے پوری قیمت وصول کر لی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: ”قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا، قیمت بھی تیری، اونٹ بھی تیرا۔‘‘
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ : أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ ، فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ ، فَأَرْجَحَ لِي " ،
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محارب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں میں اونٹ خریدا۔ جب آپ صرار (کے مقام پر) آئے تو آپ نے گائے (ذبح کرنے) کا حکم دیا، وہ ذبح کی گئی، لوگوں نے اسے کھایا، جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ آپ نے میرے لیے اونٹ کی قیمت (کے برابر سونے یا چاندی) کا وزن کیا اور میرے لیے پلڑا جھکا دیا۔ فائدہ: قیمت کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے راوی محارب (بن وثار) کو وہم ہوا ہے جس طرح اگلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے، وہ اصل قیمت کو صحیح طور پر یاد نہیں رکھ سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جب چاندی کے حساب سے اونٹ کی قیمت بتائی تو اس وقت چاندی کا ایک اوقیہ زائد دیے جانے کی بات کی ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 4103) چاندی کے اس اوقیے کو غلطی سے سونے کے ایک اوقیے کے ساتھ ملا کر دو اوقیے کر دیا گیا ہے، ان احادیث میں قیمت یا سونے میں بیان کی گئی ہے یا اس کی قیمت کے برابر چاندی میں یا اسی کے برابر دیناروں میں۔ بعض نے اضافے کو قیمت کے ساتھ شامل کر دیا ہے جس سے التباس پیدا ہوا ہے۔ البتہ سب احادیث اصل مسئلہ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ ، وَقَالَ : أَمَرَ بِبَقَرَةٍ ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا .
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے محارب نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: آپ نے مجھ سے اونٹ قیمتاً خرید لیا جس کی انہوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے تعیین بھی کی، (اس روایت میں) انہوں نے دو اوقیہ، ایک درہم اور دو درہموں کا تذکرہ نہیں کیا اور کہا: آپ نے گائے کا حکم دیا تو اسے ذبح کیا گیا، پھر آپ نے اس کا گوشت تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میں نے تمہارا اونٹ چار دینار (جو سونے کے ایک اوقیہ کے برابر ہے) میں لیا اور مدینہ تک اس کی پیٹھ (پر سواری) کا حق تمہارا ہے۔“