کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جو شخص مالدار ہو اس کو قرض ادا کرنے میں دیر کرنا حرام ہے اور جب قرض اتارا جائے مالدار پر تو اس کا قبول کر لینا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 1564
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ ، فَلْيَتْبَعْ " ،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غنی کا ٹال مٹول کرنا حق تلفی ہے، اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگایا جائے (قرض کا انتقال مالدار کی طرف کیا جائے)، تو وہ اس کا پیچھا کرے، (اس انتقال اور حوالہ کو قبول کر لے)‘‘
حدیث نمبر: 1564
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔ اسی کے مانند۔