کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: درخت لگانے کی اور کھیتی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، إِلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً ، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ " .
عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مسلمان (جو) درخت لگاتا ہے، اس میں سے جو بھی کھایا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے، اور اس میں سے جو چوری کیا جائے وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جنگلی جانور اس میں سے جو کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھا جائیں وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی اس میں (کسی طرح کی) کمی نہیں کرتا مگر وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، فَقَالَتْ : بَلْ مُسْلِمٌ ، فَقَالَ : " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ ، وَلَا دَابَّةٌ ، وَلَا شَيْءٌ ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ " .
لیث نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے نخلستان میں تشریف لے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے عرض کی: بلکہ مسلمان نے۔ تو آپ نے فرمایا: ”جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے، پھر اس میں سے انسان، چوپایہ یا کوئی بھی (جانور) کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1552
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا ، وَلَا زَرْعًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ ، أَوْ طَائِرٌ ، أَوْ شَيْءٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ : طَائِرٌ شَيْءٌ .
محمد بن حاتم اور ابن ابی خلف نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں رَوح نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو بھی مسلمان آدمی درخت لگاتا ہے اور کاشتکاری کرتا ہے، پھر اس سے کوئی جنگلی جانور، پرندہ یا کوئی بھی کھائے تو اس کے لیے اس میں اجر ہے۔“ ابن ابی خلف نے (یا کے بغیر) ”پرندہ کوئی چیز“ کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ ، مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، فَقَالَتْ : بَلْ مُسْلِمٌ ، قَالَ : " فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا ، فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ ، وَلَا دَابَّةٌ ، وَلَا طَيْرٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة " .
عمرو بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر رضی اللہ عنہا (خلیدہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ، ان کی دوسری کنیت ام مبشر بھی تھی) کے پاس باغ میں تشریف لے گئے تو آپ نے پوچھا: ”ام مبشر! یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے عرض کی: بلکہ مسلمان نے۔ آپ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، چوپایہ اور پرندہ نہیں کھاتا مگر وہ اس کے لیے قیامت کے دن تک صدقہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1552
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ ، عَنْ عَمَّارٍ . ح وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَا : عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ : عَنْ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ : عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : رُبَّمَا قَالَ : عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ ، وَكُلُّهُمْ قَالُوا : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ .
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت چار مختلف سندوں سے بیان کی ہے، کسی نے جابر کے بعد عمار کا نام لیا، اور کسی نے ابی معاویہ کا، ان دونوں نے عن ام مبشر کہا، لیکن ابن فضیل نے عن امرأة زيد بن حارثه:
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1553
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ ، أَوْ إِنْسَانٌ ، أَوْ بَهِيمَةٌ ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے، یا اناج بوتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ یا انسان یا چوپایہ یا مویشی کھاتا ہے، تو اس کے سبب اسے اجر و ثواب ملتا ہے، (ان کا کھانا، اس کے لیے صدقہ بنتا ہے۔)‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1553
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1553
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ؟ " ، قَالُوا : مُسْلِمٌ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت ام مبشر ؓ کے باغ میں تشریف لے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں؟ کیا مسلمان نے یا کافر نے؟" انہوں (ام مبشر) نے کہا مسلمان نے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساقاة / حدیث: 1553
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»