حدیث نمبر: 1492
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ : أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ لَهُ : أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ، فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا ، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ ، ومَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ ، فَقَالَ : يَا عَاصِمُ ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ عَاصِمٌ : لِعُوَيْمِرٍ : لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا ، قَالَ عُوَيْمِرٌ : وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا ، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ، فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا " ، قَالَ سَهْلٌ : فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا ، قَالَ عُوَيْمِرٌ : كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ " .
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: عاصم! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے کیا وہ اسے قتل کر دے، اس پر تو تم اسے (قصاصاً) قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے اس مسئلے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے (غیر پیش آمدہ) مسائل کو ناپسند فرمایا اور ان کی مذمت کی، یہاں تک کہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے جو بات سنی وہ انہیں بہت گراں گزری۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ واپس اپنے گھر آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تو میرے پاس بھلائی (کی بات) نہیں لایا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے کو جس کے متعلق میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں رکوں گا یہاں تک کہ میں (خود) اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لوں۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کرے اور آپ (قصاصاً) اسے قتل کر دیں گے یا پھر وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (قرآن) نازل ہو چکا ہے، تم جاؤ اور اسے لے کر آؤ۔“ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں نے آپس میں لعان کیا، میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، جب وہ دونوں (لعان سے) فارغ ہوئے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے (اب) اس کو اپنے پاس رکھا تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی انہوں نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب نے کہا: اس کے بعد یہی لعان کرنے والوں کا (شرعی) طریقہ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 1492
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ سَهْلٌ : فَكَانَتْ حَامِلًا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، (کہا:) مجھے حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ بنو عجلان میں سے عویمر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آگے انہوں نے امام مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے ان (ابن شہاب) کا یہ قول حدیث کے اندر شامل کر لیا: ”اس کے بعد خاوند کی بیوی سے جدائی لعان کرنے والوں کا (شرعی) طریقہ بن گئی۔“ اور انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا: حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت حاملہ تھی، اس کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے پکارا جاتا تھا، پھر یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ اللہ کے فرض کردہ حصے کے بقدر وہ (بیٹا) اس کا وارث بنے گا اور وہ (ماں) اس کی وارث بنے گی۔
حدیث نمبر: 1492
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، وَعَنِ السُّنَّةِ فيهما ، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ، وَزَادَ فِيهِ ، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكُمُ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ .
ابن جریج نے کہا: مجھے ابن شہاب نے، بنو ساعدہ کے فرد حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے لعان کرنے والوں اور ان کے بارے میں جو طریقہ رائج ہے اس کے متعلق بتایا کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے؟۔۔ آگے مکمل قصے سمیت حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: ان دونوں نے، میری موجودگی میں، مسجد میں لعان کیا اور انہوں نے حدیث میں (یہ بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی ہی میں اس سے جدا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو لعان کرنے والوں کے درمیان یہ تفریق ہی (شریعت کا حتمی طریقہ) ہے۔“
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ : اسْتَأْذِنْ لِي ، قَالَ : إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي ، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ ، فَدَخَلْتُ ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، قُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 ، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ : " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ " ، قَالَ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا ، وَأَخْبَرَهَا : " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ " ، قَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا، کیا ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا؟ کہا: (اس وقت) مجھے معلوم نہ تھا کہ (جواب میں) کیا کہوں، چنانچہ میں مکہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا، میں نے غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو۔ اس نے کہا: وہ دوپہر کی نیند لے رہے ہیں۔ (اسی دوران میں) انہوں نے میری آواز سن لی تو انہوں نے پوچھا: ابن جبیر ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اندر آ جاؤ، اللہ کی قسم! تمہیں اس گھڑی کوئی ضرورت ہی (یہاں) لائی ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو وہ ایک گدے پر لیٹے ہوئے تھے اور کھجور کی چھال بھرے ہوئے ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں کو آپس میں جدا کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ہاں، اس کے بارے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں (عویمر بن حارث عجلانی) نے سوال کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ بات کرے تو ایک بہت بڑے معاملے (قذف) کی بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہے تو اسی جیسے (ناقابلِ برداشت) معاملے میں خاموشی اختیار کرے گا۔ کہا: اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر جب وہ اس (دن) کے بعد آپ کے پاس آیا تو کہنے لگا: میں نے جس کے بارے میں آپ سے سوال کیا تھا، اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں یہ آیات نازل کر دی تھیں: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عورت) کو بلوایا۔ اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! وہ (خاوند) جھوٹا ہے۔ اس پر آپ نے مرد سے (لعان کی) ابتدا کی، اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوسری باری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو دی۔ تو اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ (خاوند) جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ (خاوند) سچوں میں سے ہے، تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا۔
حدیث نمبر: 1493
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے حدیث سنائی، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا: معصب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کہوں، چنانچہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: لعان کرنے والوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا ان کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔۔ پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 1493
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ : " لَا مَالَ لَكَ ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا ، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا ، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا " . قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں، یحییٰ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے خبر دی جبکہ دوسروں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا: ”تم دونوں کا (اصل) حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (اب) تمہارا اس (عورت) پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی مال نہیں، اگر تم نے سچ بولا ہے تو یہ اس کے عوض ہے جو تم نے (اب تک) اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال کیے رکھا، اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ (مال) تمہارے لیے اس کی نسبت بھی بعید تر ہے۔“ زہیر نے اپنی روایت میں کہا: ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 1493
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ " .
حماد نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو افراد (میاں بیوی) کو ایک دوسرے سے جدا کیا اور فرمایا: ”اللہ (خوب) جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟“
حدیث نمبر: 1493
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : عَنِ اللِّعَانِ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر کہتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1493
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : " فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ " .
عزرہ نے سعید بن جبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا۔ سعید نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے دو افراد (میاں بیوی) کو ایک دوسرے سے جدا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 1494
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح ، وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِك : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ ، قَالَ : نَعَمْ " .
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا۔۔ اور الفاظ انہی کے ہیں۔۔ میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ سے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے (کے نسب) کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
حدیث نمبر: 1494
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " .
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا اور ان میں جدائی ڈال دی۔
حدیث نمبر: 1494
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
یحییٰ قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، واللفظ لزهير ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ ، أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ ، أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ افْتَحْ ، وَجَعَلَ يَدْعُو " ، فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ : وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6 هَذِهِ الْآيَاتُ ، فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاعَنَا ، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ، فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ ، فَأَبَتْ ، فَلَعَنَتْ ، فَلَمَّا أَدْبَرَا ، قَالَ : " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا .
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعے کی رات مسجد میں تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے اور بات کرے تو آپ لوگ اسے (قذف کے) کوڑے لگاؤ گے، یا اسے قتل کر دے تو آپ لوگ اسے (قصاصاً) قتل کر دو گے۔ اور اگر وہ خاموش رہے تو غیظ و غضب (کی کیفیت) پر خاموش رہے گا (جو ناقابلِ برداشت ہے)۔ اللہ کی قسم! میں ہر صورت اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کروں گا، جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے اور بولے تو آپ اسے (قذف کے) کوڑے لگائیں گے، یا اسے قتل کر دے تو آپ اسے (قصاص میں) قتل کر دیں گے، اگر وہ خاموش رہے تو غیظ و غضب (کے بھڑکتے الاؤ) پر خاموش رہے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! (اس عقدے کو) کھول دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دعا فرماتے رہے (پھر حضرت ہلال بن امیہ کا واقعہ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور زیادہ الحاح سے دعا فرمائی) تو لعان کی آیت نازل ہوئی: (وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے اپنے علاوہ ان کا کوئی گواہ نہ ہو۔۔) (پہلے ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے لعان کیا، پھر) لوگوں میں سے وہی آدمی (جس نے آ کر اس حوالے سے سوال کیا تھا) اس میں مبتلا ہوا، تو وہ اور اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان دونوں نے باہم لعان کیا، مرد نے اللہ (کے نام) کی چار شہادتیں دیں (قسمیں کھائیں) کہ وہ سچوں میں سے ہے، پھر پانچویں مرتبہ اس نے لعنت بھیجی کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر اس کے بعد وہ لعان کرنے لگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”رکو“ (جھوٹی قسم نہ کھاؤ، لعنت کی سزاوار نہ بنو) تو اس نے انکار کر دیا اور لعان کیا، جب وہ دونوں پیٹھ پھیر کر مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے وہ سیاہ فام رنگ گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے“ تو (واقعی) اس نے سیاہ فام گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دیا۔
حدیث نمبر: 1495
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، جَمِيعًا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
عیسیٰ بن یونس اور عبدہ بن سلیمان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 1496
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْهُ عِلْمًا ، فَقَالَ : إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لَاعَنَ فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَلَاعَنَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْصِرُوهَا ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ ، فَهُ وَلِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ ، فَهُ وَلِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ " ، قَالَ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ .
محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیونکہ میں سمجھتا تھا انہیں اس کا علم ہے، انہوں نے بتایا، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ غلط کاری کی تہمت لگائی۔ جو براء بن مالک کا اخیافی (ماں کی طرف سے) بھائی تھا۔ یہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے اسلام کے دور میں لعان کیا، اس نے بیوی سے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھنا، اگر اس نے بچہ، سفید اور کھلے بالوں والا اور خراب آنکھوں والا جنا تو وہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا ہے، اور اگر بچہ سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا، باریک پنڈلیوں والا جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہو گا۔‘‘ تو مجھے بتایا گیا کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھنگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تھا۔
حدیث نمبر: 1497
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا ، فَقَالَ عَاصِمٌ : مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ كَثِيرَ اللَّحْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَيِّنْ ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ : أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ .
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لعان کا تذکرہ کیا گیا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں کوئی بات کہی، پھر وہ چلے گئے، تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک آدمی شکایت لے کر آیا کہ اس نے اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس مسئلے میں محض اپنی بات کی وجہ سے مبتلا ہوا ہوں، چنانچہ وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اس نے آپ کو اس آدمی کے بارے میں بتایا جسے اس نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا اور وہ (تہمت لگانے والا) آدمی زرد رنگت، کم گوشت اور سیدھے بالوں والا تھا، اور جس کے متعلق اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے وہ بھری پنڈلیوں، گندمی رنگ اور زیادہ گوشت والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! (معاملہ) واضح فرما۔“ تو اس عورت نے (بعد ازاں جب بچے کو جنم دیا تو) اس آدمی کے مشابہ بچے کو جنم دیا جس کا اس کے خاوند نے ذکر کیا تھا کہ اسے اس نے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تھا۔ مجلس میں ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا“؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: نہیں، وہ عورت اسلام میں (داخل ہو جانے کے باوجود) علانیہ برائی (زنا) کرتی تھی (لیکن مکمل گواہیاں دستیاب نہ ہوتی تھیں)۔
حدیث نمبر: 1497
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَزَادَ فِيهِ ، بَعْدَ قَوْلِهِ كَثِيرَ اللَّحْمِ ، قَالَ : جَعْدًا قَطَطًا .
سلیمان بن بلال نے مجھے یحییٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا گیا۔۔ آگے لیث کی حدیث کے مانند ہے اور انہوں نے ”زیادہ گوشت والا“ کے الفاظ کے بعد یہ اضافہ کیا، کہا: ”بہت زیادہ اور گھنگھریالے بالوں والا“۔
حدیث نمبر: 1497
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ : وَذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ : أَهُمَا اللَّذَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی۔۔ الفاظ عمرو کے ہیں۔۔ دونوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے روایت کی، انہوں نے کہا: عبداللہ بن شداد نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ ہوا تو ابن شداد نے پوچھا: کیا یہی دونوں تھے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: نہیں، وہ عورت علانیہ (برائی) کرتی تھی، ابن ابی عمر نے قاسم بن محمد سے بیان کردہ اپنی روایت میں کہا کہ انہوں (قاسم) نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، قَالَ سَعْدٌ : بَلَى ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " .
عبدالعزیز نے ہمیں سہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (صالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت بخشی، کیوں نہیں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگو!) جو بات تمہارا سردار کہہ رہا ہو، اس کو سنو۔“
حدیث نمبر: 1498
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أأمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول! اگر میں کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو کیا اسے چار گواہوں کے لانے تک، مہلت دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔‘‘
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَلَّا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " .
سلیمان بن بلال سے روایت ہے، کہا: مجھے سہیل نے اپنے والد (صالح) کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو میں اسے ہاتھ نہ لگاؤں حتیٰ کہ چار گواہ پیش کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں تو اسے اس سے پہلے ہی تلوار کا نشانہ بناؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگو!) جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے اس بات کو سنو! بلاشبہ وہ غیرت والا ہے، میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے۔“
حدیث نمبر: 1499
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرُ مُصْفِحٍ عَنْهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اگر میں کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو بغیر اس کے تلوار کو چوڑائی میں کروں یا اس سے درگزر کروں، اس کی گردن اڑا دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کا قول پہنچا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت و تعجب ہے؟ اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں، اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے، اللہ نے غیرت کی بنا پر ہی، بے حیائی کے کاموں سے منع فرمایا۔ بے حیائی کھلی ہو چھپی، اور اللہ تعالیٰ سے کوئی شخص زیادہ غیرت مند نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں ہے، اس لیے اس نے رسولوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی شخص کو تعریف و مدح پسند نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1499
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : غَيْرَ مُصْفِحٍ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْهُ .
زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کی، البتہ انہوں نے ”موڑے بغیر“ کہا، اس کے ساتھ ”اس سے“ نہیں کہا۔
حدیث نمبر: 1500
وَحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " ، قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ " ، قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی، میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے اپنے کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ اس نے عرض کی: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ ان میں کہاں سے آ گئے؟“ اس نے عرض کی: ممکن ہے اسے (ننھیال یا ددھیال کی) کسی رگ (جین) نے (اپنی طرف) کھینچ لیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بچے کو بھی ممکن ہے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔“
حدیث نمبر: 1500
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَدَتِ امْرَأَتِي غُلَامًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ .
معمر اور ابن ابی ذئب دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ابن عیینہ کے ہم معنی حدیث روایت کی، البتہ معمر کی حدیث میں ہے، اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے، اور وہ اس وقت اسے اپنا نہ ماننے کی طرف اشارہ کر رہا تھا اور حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس بچے کو اپنا نہ ماننے کی اجازت نہ دی۔
حدیث نمبر: 1500
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا أَلْوَانُهَا ؟ " ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنَّى هُوَ " ، قَالَ : لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ " .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے، اور میں نے اس (کو اپنانے) سے انکار کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ اس نے عرض کی: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کہاں سے آیا؟“ کہنے لگا: اللہ کے رسول! ممکن ہے اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اور یہ (بچہ) شاید اسے بھی اس کی کسی رگ نے (اپنی طرف) کھینچ لیا ہو۔“
حدیث نمبر: 1500
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے۔۔ ان (سفیان، معمر، ابن ابی ذئب اور یونس) کی حدیث کی طرح۔