حدیث نمبر: 1446
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا : حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدعَنْا ، فقَالَ : " وَعَنْدَكُمْ شَيْءٌ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، بِنْتُ حَمْزَةَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " ،
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وجہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش سے انتخاب کرتے ہیں اور ہمیں (بنو ہاشم کو) نظر انداز کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ہاں کوئی رشتہ ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1446
وحدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
جریر، عبداللہ بن نمیر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حدیث نمبر: 1447
وحدثنا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حدثنا هَمَّامٌ ، حدثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ ، فقَالَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ " .
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے جابر بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی (کے ساتھ نکاح کرنے) کے بارے میں خواہش کا اظہار کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رحم (ولادت اور نسب) سے حرام ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1447
وحدثناه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ الْقُطَعِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هَمَّامٍ سَوَاءً ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ شُعْبَةَ انْتَهَى عَنْدَ قَوْلِهِ : ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ : وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ، وَفِي رِوَايَةِ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ .
یحییٰ قطان اور بشر بن عمر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، شعبہ اور سعید بن ابی عروبہ دونوں نے قتادہ سے ہمام کی (سابقہ) سند کے ساتھ بالکل اسی طرح روایت کی، مگر شعبہ کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ پر ختم ہو گئی اور سعید کی حدیث میں ہے: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ اور بشر بن عمر کی روایت میں (جابر بن زید سے روایت ہے کی بجائے یہ) ہے: ”میں نے جابر بن زید سے سنا۔“
حدیث نمبر: 1448
وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنِ ابْنَةِ حَمْزَةَ ؟ قِيلَ : أَلَا تَخْطُبُ بِنْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : " إِنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: اللہ کے رسول! آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی (کے ساتھ نکاح کرنے) سے (دور یا قریب) کہاں ہیں؟ یا کہا گیا: کیا آپ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کا پیغام نہیں بھیجیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمزہ رضاعت کی بنا پر یقینی طور پر میرے بھائی ہیں۔“