کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: صاحب استطاعت کے لیے نکاح کرنے کا استحباب، اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا اس کو روزوں کے ساتھ مشغول رہنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 1400
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى : أَخْبَرَنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى ، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ ، فقَالَ : لَهُ عُثْمَانُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ ، قَالَ : فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ ، فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " ،
علقمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منیٰ میں جا رہا تھا کہ انہیں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے، اور وہ ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ٹھہر گئے، تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں کہا، اے ابو عبدالرحمٰن! کیا ہم تمہاری شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کر دیں، شاید وہ تمہیں گزشتہ دور کی یاد تازہ کر دے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا، اگر آپ یہ بات کہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ فرما چکے ہیں، ”اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو، وہ شادی کر لے، کیونکہ نکاح سے نظریں خوب جھک جاتی ہیں اور شرم گاہ اچھی طرح محفوظ ہو جاتی ہے اور جو شخص (نان و نفقہ کی ادائیگی) کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ روزوں کی پابندی کرے، کیونکہ اس سے شہوت کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1400
حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فقَالَ : هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : فَاسْتَخْلَاهُ ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ ، قَالَ : قَالَ لِي : تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِكْرًا لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ .
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ چل رہا تھا، کہ ان کی اچانک حضرت عثمان بن عفان ؓ سے ملاقات ہو گئی، تو انہوں نے کہا، آئیے، اے ابو عبدالرحمٰن! انہیں الگ لے گئے، تو حضرت عبداللہ ؓ نے جان لیا، انہیں خواہش نہیں ہے، انہوں نے مجھے بلایا، اے علقمہ آؤ، میں آ گیا، تو حضرت عثمان ؓ نے انہیں کہا، اے ابو عبدالرحمان! ہم آپ کی شادی دوشیزہ لڑکی سے نہ کر دیں، شاید وہ تمہارے اندر گزشتہ دور کی یاد تازہ کر دے، تو حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا، اگر آپ یہ بات کہتے ہیں، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 1400
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ ، فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " ،
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے نوجوانوں کا گروہ! تم میں سے جو گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہے، وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس سے نظر خوب نیچی ہوتی ہے، اور شرم گاہ اچھی طرح (غلط کاری) سے بچ جاتی ہے، اور جو گھر آباد نہ کر سکتا ہو، وہ روزوں کی پابندی کرے، وہ اس کی شہوت کو توڑ دیں گے۔
حدیث نمبر: 1400
حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَعَمِّي عَلْقَمَةُ ، وَالْأَسْوَدُ ، عَلَى عبد الله بن مسعود ، قَالَ : وَأَنَا شَابٌّ يَوْمَئِذٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا رُئِيتُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ مِنْ أَجْلِي ، قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَزَادَ قَالَ : فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ ،
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا چچا علقمہ اور (بھائی) اسود حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور میں ان دنوں نوجوان تھا، تو میرے خیال میں انہوں نے میری ہی خاطر ایک حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی اور آگے یہ اضافہ ہے، تھوڑے ہی عرصہ کے بعد میں نے شادی کر لی۔
حدیث نمبر: 1400
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ : فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ .
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (عبدالرحمان بن یزید نے) کہا: ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سب سے کم عمر تھا، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے، (مگر) انہوں نے یہ نہیں کہا: ”اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی۔“
حدیث نمبر: 1401
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حدثنا بَهْزٌ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ ، فقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا آكُلُ اللَّحْمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، فقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا : كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أُصَلِّي ، وَأَنَامُ ، وَأَصُومُ ، وَأُفْطِرُ ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي ، فَلَيْسَ مِنِّي " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے آپ کی تنہائی کے معمولات کے بارے میں سوال کیا، پھر ان میں سے کسی نے کہا: میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا، اور کسی نے کہا: میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (آپ کو پتہ چلا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی، اس کی ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس اس طرح سے کہا ہے۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے رغبت ہٹا لی وہ مجھ سے نہیں۔“
حدیث نمبر: 1402
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : " رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا " .
معمر نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ کی (طرف سے) نکاح کو ترک کر کے عبادت میں مشغولیت (کے ارادے) کو مسترد فرما دیا۔ اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خود کو خصی کر لیتے۔
حدیث نمبر: 1402
وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ : " رُدَّ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلُ ، وَلَوْ أُذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا " .
حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون ؓ کو لذات و شہوات ترک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اگر ان کو اجازت مل جاتی تو ہم خصی ہو جاتے۔
حدیث نمبر: 1402
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : " أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ لَاخْتَصَيْنَا " .
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ (عبادت کے لیے نکاح اور گھرداری سے) الگ ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے۔