کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1381
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ ، وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا ، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی، انہوں نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں، خوشحالی کے ملک میں چلو، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا کاش کہ وہ جانتے ہوتے۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1382
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى ، يَقُولُونَ : يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " ،
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کا نام دیتے ہیں، حالانکہ وہ مدینہ ہے، وہ لوگوں کو اس طرح ممتاز کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو الگ کر دیتی ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1382
وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حدثنا سُفْيَانُ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ ، لَمْ يَذْكُرَا : الْحَدِيدَ .
سفیان اور عبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”جیسے بھٹی میل کو نکال دیتی ہے۔“ ان دونوں نے لوہے کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1383
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي ، فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو (جنگلی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، تو اسے مدینہ میں شدید بخار چڑھ گیا، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیعت واپس کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا، پھر وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا، میری بیعت واپس کر دو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، تیسری دفعہ حاضر ہو کر پھر کہنے لگا، میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کر دیا، تو بدو چلا گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تو بس بھٹی کی طرح ہے، میل کچیل اور گندگی کو الگ کر دیتا ہے، اور پاک چیز کو خالص اور ممتاز کر دیتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 1384
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ " .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ طیبہ (پاک) ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”یہ میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتی ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1385
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ : طَابَةَ " .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔“