کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1374
حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ : أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فقَالَ لَهُ : إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ ، فقَالَ النَّاسُ : وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ ، مَا أَدْرِي كَيْفَ ، قَالَ : " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا ، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا " ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " ارْتَحِلُوا " ، فَارْتَحَلْنَا ، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ ، الشَّكُّ مِنْ : حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ .
مہری رحمۃ اللہ علیہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ مدینہ میں گزران کی مشکل اور شدت سے دوچار ہونا پڑا تو وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے عرض کیا کہ میرے بال بچے بہت ہیں، اور ہم مشقت و تنگی میں مبتلا ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں، اپنے اہل و عیال کو کسی سرسبز و شاداب علاقہ میں منتقل کر لوں، تو ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ایسے نہ کر، مدینہ کو ہی لازم پکڑ، کیونکہ ہم نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، میرا خیال ہے، انہوں نے کہا، حتی کہ ہم عسفان پہنچ گئے، تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند راتیں قیام فرمایا، تو لوگوں نے کہا، ہم یہاں بے مقصد یا بے کار ٹھہرے ہوئے ہیں اور پیچھے ہمارے بال بچوں کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہے، ہم ان کے بارے میں بے خوف نہیں ہیں اور یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہاری طرف سے یہ کیا بات پہنچی ہے؟ (راوی کا قول ہے، میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا الفاظ فرمائے) اس ذات کی قسم، جس کی میں قسم اٹھاتا ہوں، یا جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں پختہ ارادہ کر چکا ہوں، یا اگر تم چاہو (راوی کا قول ہے، میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے کیا کہا) میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم دوں اور جب تک مدینہ نہ پہنچ جاؤں، اس کی کوئی گرہ نہ کھولوں‘‘ (یعنی مدینہ تک مسلسل سفر کروں) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کی حرمت کا اعلان کیا، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں طرف کے دروں (پہاڑوں) کے درمیان کا علاقہ واجب الاحترام ہے، اس میں خون ریزی نہ کی جائے اور نہ اس میں کسی کے خلاف ہتھیار اٹھایا جائے، اور کسی درخت کے پتے جانوروں کی ضرورت کے سوا نہ جھاڑے جائیں، اے اللہ! ہمارے شہر میں برکت دے، اے اللہ! ہمارے مد میں برکت ڈال، ہمارے صاع میں برکت ڈال، اے اللہ ہمارے مد میں برکت ڈال، اے اللہ ہمارے صاع میں برکت ڈال، اے اللہ! ہمارے شہر مدینہ میں برکت نازل فرما، برکت کے ساتھ دو برکتیں اور نازل فرما، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس کی قسم! مدینہ کی کوئی گھاٹی یا درہ نہیں ہے، جس پر تمہاری واپسی تک دو فرشتے پہرہ نہ دے رہے ہوں‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فرمایا: ”کوچ کرو۔‘‘ تو ہم چل پڑے، اور ہم مدینہ کی طرف بڑھے، پس اس ذات کی قسم! جس کی ہم قسم اٹھاتے ہیں، یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو شک ہے کیا لفظ کہا، ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر ابھی پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا، اس سے پہلے انہیں کسی چیز نے (حملہ پر) برانگیختہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 1374
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا ، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ " ،
مہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، ”اے اللہ! ہمارے لیے، ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں عطا فرما،‘‘ (یعنی مکہ کی ایک برکت کے مقابلہ میں مدینہ میں دگنی برکت پیدا کر۔)
حدیث نمبر: 1374
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
شیبان اور حرب، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1374
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ : أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا ، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا ، فقَالَ لَهُ : وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا " .
مہری کے مولیٰ ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ میں جنگ حرہ کے زمانہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مدینہ سے کہیں اور چلے جانے کا مشورہ لیا، اور ان سے وہاں کی مہنگائی (گرانی) اور اپنے بال بچوں کی کثرت کی شکایت کی، اور ان سے عرض کیا، میں مدینہ کی بھوک اور تکالیف پر صبر نہیں کر سکتا، تو انہوں نے اسے جواب دیا، تجھ پر افسوس، میں تمہیں یہ مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”کوئی انسان یہاں کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے نہیں مرتا، مگر میں اس کی قیامت کے دن، بشرطیکہ وہ مسلمان ہو، سفارش کروں گا، یا شہادت دوں گا۔‘‘
حدیث نمبر: 1374
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ " ، قَالَ : ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ .
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انہیں اپنے والد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔“ کہا: پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے، اور ابوبکر نے کہا: ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے، پھر اسے آزاد کر دیتے۔
حدیث نمبر: 1375
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فقَالَ : إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ " .
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”بلاشبہ یہ حرم ہے، امن والا ہے۔“
حدیث نمبر: 1376
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا ، وَمُدِّهَا ، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ " ،
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں (ہجرت کر کے) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی: ”اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لیے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔“
حدیث نمبر: 1376
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا ، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے اس (مدینہ) کی تنگدستی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی ہوں گا یا گواہ۔“
حدیث نمبر: 1377
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، فقَالَت : إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ یحنس بیان کرتے ہیں کہ میں فتنہ (واقعہ حرہ) کے عرصہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان کے پاس ان کی آزاد کردہ لونڈی سلام عرض کرنے کے لیے آئی، اور کہا، اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کر لیا ہے، ہمارے حالات بڑے تنگ ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے فرمایا، اے بے وقوف اور نادان عورت بیٹھ رہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بندہ مدینہ کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کرے گا، قیامت کے دن میں اس کی سفارش کروں گا، یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔‘‘
حدیث نمبر: 1377
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنا الضَّحَّاكُ ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا ، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا ، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " يَعْنِي : الْمَدِينَةَ .
ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی، انہوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اس (شہر) کی تنگدستی اور سختی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ ان کی مراد مدینہ سے تھی۔
حدیث نمبر: 1378
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَوْ شَهِيدًا " ،
علاء بن عبدالرحمان (بن یعقوب) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے کوئی شخص مدینہ کی تنگدستی اور مشقت پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن، میں اس کا سفارشی یا گواہ ہوں گا۔“
حدیث نمبر: 1378
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
امام صاحب ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1378
وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حدثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ " ، بِمِثْلِهِ .
صالح بن ابوصالح نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پر صبر نہیں کرتا۔“ (آگے) اسی کے مانند ہے۔