کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: مکہ مکرمہ کے حرم ہونے اور اس کے شکار اور گھاس اور درخت اور گری پڑی چیز کی حرمت کا بیان سوائے اس کے جو گری پڑی چیز کا اعلان کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 1353
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ : فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ، وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ : فَتْحِ مَكَّةَ : إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا " ، فقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ ، فقَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " ،
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ہجرت کا حکم نہیں رہا، لیکن جہاد ہے، اور نیت، تو جب تمہیں جہاد کے لیے کوچ کرنے کو کہا جائے تو چل پڑو۔‘‘ اور فتح کے دن، فتح مکہ کے موقع پر فرمایا: ”یہ شہر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس دن سے محترم قرار دیا ہے، جس دن آسمان و زمین کو پیدا کیا، لہذا اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت تک کے لیے اس کا ادب و احترام ضروری ہے، اور مجھ سے پہلے اللہ نے کسی کو یہاں قتال کرنے کی اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے وقتی اجازت دی گئی، (اور وقت ختم ہو جانے کے بعد) اب قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ کے محترم قرار دینے سے اس کا ادب و احترام واجب ہے (اور ہر وہ اقدام اور عمل جو اس کے تقدس و احترام کے منافی ہے، حرام ہے) اس علاقہ کے خاردار درخت اور جھاڑ بھی نہ کاٹے اور نہ چھانٹیں جائیں، یہاں کے کسی قابل شکار جانور کو پریشان نہ کیا جائے، اور اگر کوئی گری پڑی چیز نظر آئے تو اس کو وہی اٹھائے جو اس کا اعلان اور تشہیر کرتا رہے، اور یہاں کی سبز گھاس نہ کاٹی اکھاڑی جائے۔‘‘ (اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اَذْخَرْ
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1353
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1353
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ : الْقَتْلَ ، وَقَالَ : لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ ، إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا .
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے ”جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے، ”قتال“ (لڑائی) کے بجائے ”قتل“ کا لفظ کہا اور کہا: ”یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلان کرے، کوئی نہ اٹھائے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1353
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1354
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ : ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا ، قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي ، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ ، أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا ، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً ، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَقُولُوا لَهُ : إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " ، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ : مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو ؟ قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْح ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا ، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ .
حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا جبکہ وہ (یزید کی طرف سے گورنر تھا اور اس کے حکم سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے خلاف) مکہ پر چڑھائی کرنے کے لیے لشکر تیار کر کے روانہ کر رہا تھا کہ: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے، کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بیان کروں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے اگلے دن (مکہ میں) ارشاد فرمایا تھا، میں نے اپنے کانوں سے وہ فرمان سنا تھا، اور میرے دل و دماغ نے اسے یاد کر لیا تھا، اور جس وقت وہ فرمان آپ کی زبان مبارک سے صادر ہو رہا تھا، اس وقت میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا تھا: ”مکہ کو اللہ تعالیٰ نے محترم قرار دیا ہے، اس کی حرمت یا احترام کا فیصلہ لوگوں نے نہیں کیا، اس لیے جو انسان اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ یہاں خون ریزی کرے، اور وہ یہاں کے درختوں کو بھی نہ کاٹے، اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کو سند بنا کر رخصت کا اپنے لیے جواز نکالے، تو اس کو کہہ دو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، اور تجھے اجازت نہیں دی ہے، اور مجھے بھی بس، اللہ تعالیٰ نے دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے (عارضی اور وقتی) اجازت دی تھی، اور آج اس وقت اس طرح حرمت لوٹ آئی جس طرح حرمت موجود تھی، (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جو لوگ یہاں موجود ہیں، (جنہوں نے میری بات سنی ہے) وہ دوسرے غیر موجود لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں‘‘ تو ابو شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے دریافت کیا، آپ کو عمرو نے کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، اس نے کہا کہ: اے ابو شریح! میں یہ باتیں تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دے سکتا، نہ ہی کسی ایسے آدمی کو جو کسی کا ناحق خون کر کے بھاگ آئے، یا کسی کا نقصان کر کے بھاگ آئے، پناہ دے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1354
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1355
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حدثنا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَامَ فِي النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى ، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ " ، فقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " ، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فقَالَ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ " ، قَالَ الْوَلِيدُ : فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ : مَا قَوْلُهُ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور (انہوں نے کہا:) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے ہاتھی کو مکہ سے روک دیا۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا، مجھ سے پہلے یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ تھا، میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ اور میرے بعد یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹے (دار درخت) کاٹے جائیں۔ اور اس میں گری پڑی کوئی چیز اٹھانا اعلان کرنے والے کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں۔ اور جس کا کوئی قریبی (عزیز) قتل کر دیا جائے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اس کی دیت دی جائے یا (قاتل) قتل کیا جائے۔“ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر کے سوا، ہم اسے اپنی قبروں (کی سلوں کی درزوں) اور گھروں (کی چھتوں) میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کے سوا۔“ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابوشاہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ سب) میرے لیے لکھوا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔“ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: اس (یمنی) کا یہ کہنا ”اے اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں۔“ (اس سے مراد) کیا تھا؟ انہوں نے کہا: یہ خطبہ (مراد تھا) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1355
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 1355
حَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ ، فقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ ، لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا ، إِلَّا مُنْشِدٌ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يُعْطَى ، يَعْنِي الدِّيَةَ ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ " ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، يُقَالَ لَهُ : أَبُو شَاهٍ ، فقَالَ : اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ : " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ " ، فقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ : إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " .
شیبان نے یحییٰ سے رو??? روایت کی، (کہا:) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جسے انہوں نے (بنو لیث) نے قتل کیا تھا، قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے ہاتھی کو مکہ (پر حملے) سے روک دیا جبکہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ سن لو! یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی بھر حلال کیا گیا تھا اور (اب) یہ میری اس موجودہ گھڑی میں بھی حرمت والا ہے، نہ ڈنڈے کے ذریعے سے اس کے کانٹے جھاڑے جائیں، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ ہی اعلان کرنے والے کے سوا اس میں گری ہوئی چیز اٹھائے اور جس کا کوئی قریبی قتل کر دیا گیا اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اسے عطا کر دیا جائے۔ یعنی خون بہا۔ یا مقتول کے گھر والوں کو اس سے بدلہ لینے دیا جائے۔“ کہا: تو اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں، آپ نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ دو۔“ قریش کے ایک آدمی نے عرض کی: اذخر کے سوا، (کیونکہ) ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کے سوا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1355
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»